Welcome To Qalm-e-Sindh

حالتِ امن ہو یا جنگ، پاک فوج عوام کے ساتھ ہے: ڈی جی آئی ایس پی آر

اسلام آباد: ڈی جی آئی ایس پی آر لیفٹیننٹ جنرل احمد شریف چوہدری کا کہنا ہے کہ وزیر اعظم اور آرمی چیف کی ہدایت پر سیلاب سے متاثرہ علاقوں میں امدادی سرگرمیاں بھرپور طریقے سے جاری ہیں۔

انہوں نے بتایا کہ پاک فوج کے دو جوان سیلابی ریلیف آپریشن کے دوران شہید جبکہ دو زخمی ہوئے، تاہم افواجِ پاکستان مشکل کی اس گھڑی میں عوام کے شانہ بشانہ کھڑی ہے۔ ڈی جی آئی ایس پی آر کا کہنا تھا کہ پاکستان کے کسی بھی کونے میں ضرورت پڑی، فوج ہر اول دستے کے طور پر موجود رہی ہے۔ انہوں نے واضح کیا کہ ورکنگ باؤنڈری پر کوئی بھی پوسٹ خالی نہیں کی گئی اور دہشت گردوں و غیر ملکی عناصر کے خلاف کارروائیاں بھی تسلسل سے جاری ہیں۔

لیفٹیننٹ جنرل احمد شریف چوہدری نے کہا کہ سیلاب کی صورتحال میں فوج کے جوان دن رات میدان میں ہیں، چاہے حالتِ جنگ ہو یا امن، پاک فوج ہمیشہ عوام کے ساتھ کھڑی رہی ہے اور رہے گی۔ انہوں نے بتایا کہ پنجاب، خیبرپختونخوا اور آزاد کشمیر میں فلڈ ریلیف یونٹس فعال ہیں۔ ایک انجینئر بریگیڈ، 19 انفنٹری یونٹس اور 7 انجینئرنگ یونٹس امدادی کاموں میں مصروف ہیں۔ آرمی ہیلی کاپٹرز اب تک 26 پروازیں مکمل کرچکے ہیں۔

گجرانوالہ میں 6 انفنٹری اور 2 انجینئرنگ یونٹس تعینات ہیں، جبکہ بہاولپور اور بہاولنگر میں 4 یونٹس کو اسٹینڈ بائی پر رکھا گیا ہے۔ خیبرپختونخوا میں بھی فلڈ یونٹس اور میڈیکل بٹالینز موجود ہیں۔ ڈی جی آئی ایس پی آر نے بتایا کہ آرمی انجینئرز اور سول انتظامیہ کی مشترکہ کاوشوں سے اب تک 104 سڑکیں کلیئر کی جا چکی ہیں، جب کہ شاہراہ قراقرم کو بھی بحال کر دیا گیا ہے۔ کرتار پور میں ایک بڑا ریسکیو آپریشن جاری ہے۔ اب تک سیلاب متاثرین میں 225 ٹن راشن تقسیم کیا جا چکا ہے جبکہ 20 ہزار سے زائد افراد کو طبی سہولیات فراہم کی گئی ہیں۔ گلگت بلتستان اور آزاد کشمیر میں بھی ایئر ریلیف آپریشنز انجام دیے جا رہے ہیں۔

Related Posts