Welcome To Qalm-e-Sindh

کراچی میں بھتہ خور بچوں اور بیروزگار افراد کو استعمال کر رہے ہیں، وزیر داخلہ سندھ

وزیر داخلہ سندھ ضیا لنجار نے انکشاف کیا ہے کہ کراچی میں بھتہ خور گروہ اپنی وارداتوں کے لیے بچوں اور بیروزگار افراد کو استعمال کر رہے ہیں، جس سے جرائم کی نوعیت مزید پیچیدہ ہو گئی ہے۔

انہوں نے کہا کہ بھتہ خوری کے معاملات کو چھپانے کے بجائے سامنے لانا ضروری ہے۔ حالیہ کارروائی کے دوران ایک بھتہ خور گروہ کو گرفتار کیا گیا ہے جو مختلف طریقوں سے معلومات اکٹھی کر کے بھتہ وصولی میں ملوث تھا۔

وزیر داخلہ کے مطابق، ای چالان سسٹم ٹریفک نظام کی بہتری کے لیے متعارف کرایا گیا ہے، جس کے بعد ٹریفک حادثات میں اموات کی شرح میں کمی آئی ہے۔ انہوں نے بتایا کہ اس حوالے سے ایک اجلاس طلب کیا گیا جس میں اپوزیشن جماعتوں کی تجاویز بھی سنی گئیں۔ موٹرسائیکل سواروں کی معمولی اور عمومی غلطیوں پر چالان کم کرنے کا فیصلہ کیا گیا ہے۔

انہوں نے مزید بتایا کہ پورٹ سے چلنے والے ٹرالرز پر دن کے اوقات میں پابندی عائد کی گئی ہے، جبکہ واٹر ٹینکرز پر مکمل پابندی ممکن نہیں کیونکہ اس سے شہر میں پانی کی فراہمی متاثر ہو سکتی ہے۔ بجری اور دیگر تعمیراتی سامان کی ترسیل پر دن کے اوقات اور اسکول ٹائم کے دوران پابندی نافذ کی گئی ہے۔

صوبائی وزیر داخلہ کا کہنا تھا کہ آئی جی سندھ کی تبدیلی کے معاملے پر وفاق سے رابطہ کیا گیا ہے۔ طریقہ کار کے مطابق وفاق کی جانب سے نام ارسال کیے جاتے ہیں، جن میں سے صوبہ ایک نام کی منظوری دے کر واپس بھیجتا ہے۔ ان کے مطابق سندھ میں گریڈ 21 کے افسران دستیاب ہیں اور اس معاملے میں کسی قسم کی رکاوٹ کا امکان نہیں۔

کراچی میں بھتہ خوری کے حوالے سے بات کرتے ہوئے ضیا لنجار نے بتایا کہ بھتہ خور گروہ بچوں، بیروزگار اور جرائم پیشہ افراد کو ہائر کر کے زیر تعمیر عمارتوں کی تصاویر بنواتے اور متعلقہ معلومات جمع کرواتے ہیں۔ انہوں نے واضح کیا کہ بھتہ خوروں کی کسی سطح پر سرپرستی نہیں کی جا رہی اور ان کے خلاف بلاامتیاز کارروائی جاری رہے گی۔

اعداد و شمار کے مطابق، 2024 سے 2025 کے دوران کراچی میں بھتہ خوری کے 172 مقدمات درج ہوئے، جن میں سے پولیس تفتیش کے بعد 76 مقدمات بھتہ خوری کے ثابت ہوئے۔ بعض مقدمات ذاتی جھگڑوں، زمین اور برادری کے تنازعات کے باعث بھی درج کرائے گئے تھے۔ پولیس نے بھتہ خوری کے 73 مقدمات حل کر لیے ہیں۔

انہوں نے بتایا کہ بھتہ خوری کے 76 ثابت شدہ مقدمات میں 131 ملزمان ملوث تھے۔ پولیس مقابلوں میں 6 ملزمان مارے گئے، 14 زخمی حالت میں گرفتار ہوئے جبکہ مجموعی طور پر 100 سے زائد ملزمان کو حراست میں لیا گیا ہے۔ حالیہ کارروائیوں کے دوران مختلف علاقوں سے مزید مشتبہ افراد کو بھی گرفتار کیا گیا ہے۔

Related Posts