انڈونیشیا کے صوبہ ایسٹ جاوا کے علاقے Pacitan Regency میں ایک 74 سالہ شخص نے تقریباً 50 سال کم عمر خاتون سے شادی کی ہے اور اس موقع پر دلہن کو 3 ارب انڈونیشین روپے (تقریباً 5 کروڑ پاکستانی روپے سے زائد) بطور جہیز ادا کیے گئے۔
شادی کی تقریب یکم اکتوبر کو منعقد ہوئی جہاں دلہن کو ایک چیک بھی پیش کیا گیا۔ مہمانوں نے شادی کے دوران خوشی کے نعرے لگائے جبکہ میزبان کی جانب سے مہمانوں کو ایک لاکھ انڈونیشین روپے نقد بھی تقسیم کیے گئے۔
اس شادی کی ویڈیو گرافی کرنے والی کمپنی نے دعویٰ کیا کہ شادی کے کھانے کے بعد نوبیاہتا جوڑا بغیر ادائیگی کیے روانہ ہو گیا اور ان سے رابطہ نہیں ہو سکا۔ اس واقعے کی وجہ سے آن لائن مختلف افواہیں بھی گردش میں آئیں جن میں کہا گیا کہ دولہا نے نہ صرف ادائیگی نہیں کی بلکہ وہاں سے موٹرسائیکل پر فرار ہو گیا۔
کچھ حلقوں نے یہ بھی شک ظاہر کیا کہ دیا گیا چیک جعلی ہوسکتا ہے۔ تاہم، چند دن بعد دولہے نے سوشل میڈیا پر تصدیق کی کہ دیا گیا چیک اصلی ہے اور شادی کے بعد فرار ہونے کی تمام افواہیں بے بنیاد ہیں۔
دلہن کے خاندان نے بھی ان افواہوں کی تردید کی اور بتایا کہ جوڑا اس وقت ہنی مون پر ہے۔
ویڈنگ فوٹوگرافی کمپنی کی جانب سے شکایت درج کرائے جانے کے بعد متعلقہ حکام نے اس معاملے کی تحقیقات شروع کر دی ہیں۔














