27ویں آئینی ترمیم پر ہونے والے حالیہ مذاکرات کے دوران پاکستان پیپلز پارٹی نے صدرِ مملکت کے لیے تاحیات استثنیٰ اور قومی احتساب بیورو (نیب) کے خاتمے کے مطالبات پیش کیے ہیں۔
آئین کے آرٹیکل 248 کے تحت صدر کو اپنے عہدے کی مدت کے دوران فوجداری کارروائی سے استثنیٰ حاصل ہے۔ تاہم پیپلز پارٹی نے اس استثنیٰ کو صدارتی مدت کے بعد بھی برقرار رکھنے کی تجویز دی ہے، جس کے بعد صدر کے خلاف کسی بھی نئی یا پرانی فوجداری کارروائی کی اجازت نہیں ہوگی۔
ذرائع کے مطابق پیپلز پارٹی نے نیب کے خاتمے کا مطالبہ بھی دہرایا ہے، جو میثاقِ جمہوریت کا حصہ تھا۔ میثاق کے مطابق نیب کی جگہ ایک خودمختار اور پارلیمانی نگرانی میں کام کرنے والا احتساب کمیشن قائم کیا جانا تھا۔
پارٹی کی جانب سے وزیرِ اعظم، وزرائے اعلیٰ، گورنرز اور وزیروں کے لیے بھی آئینی استثنیٰ کی بحالی کی تجویز پیش کی گئی ہے۔ یہ وہ تحفظ ہے جو آئین کے آرٹیکل 248 کے تحت موجود تھا، تاہم بعد ازاں عدالتی فیصلوں کے نتیجے میں محدود ہوگیا تھا۔
پیپلز پارٹی کے رہنما مرتضیٰ وہاب، جو 27ویں آئینی ترمیم پر مذاکراتی ٹیم کا حصہ ہیں، کے مطابق پارٹی نے مطالبہ کیا ہے کہ صدر، وزیرِ اعظم، گورنرز اور دیگر اعلیٰ عہدیداران کو وہ آئینی تحفظ واپس دیا جائے جو اصل آئین میں شامل تھا۔
ان کے مطابق ترمیم کے حتمی مسودے میں وہ نکات شامل کیے گئے ہیں جن پر اتحادی جماعتوں کے درمیان اتفاقِ رائے ہو چکا ہے، جب کہ نیب کے خاتمے سمیت کچھ تجاویز پر مشاورت کا عمل تاحال جاری ہے۔
مرتضیٰ وہاب نے واضح کیا کہ دونوں بڑی جماعتیں — مسلم لیگ (ن) اور پیپلز پارٹی — اس مؤقف پر متفق ہیں کہ نیب کو بالآخر ختم کر کے شفاف اور غیر جانبدار احتسابی نظام قائم کیا جانا چاہیے، جیسا کہ میثاقِ جمہوریت میں طے پایا تھا۔














