Welcome To Qalm-e-Sindh

گھروں میں لال بیگ کی موجودگی: انسانی صحت پر مرتب ہونے والے حیران کن اثرات سامنے آگئے

لال بیگ ایک ایسا کیڑا ہے جو دنیا بھر میں، انٹارکٹیکا کے سوا، تقریباً ہر جگہ پایا جاتا ہے۔ یہ کیڑا اپنی غیر معمولی برداشت کے لیے مشہور ہے — کہا جاتا ہے کہ یہ کھانے کے بغیر تین ماہ، پانی کے بغیر ایک ماہ اور ہوا کے بغیر بھی 45 منٹ تک زندہ رہ سکتا ہے۔

اگرچہ گھروں میں لال بیگوں کی موجودگی کو اکثر صرف ناپسندیدہ سمجھا جاتا ہے، مگر حقیقت میں یہ انسانی صحت کے لیے خطرناک بھی ثابت ہوسکتے ہیں۔ نئی تحقیق سے معلوم ہوا ہے کہ گھروں میں لال بیگوں کی کثرت، الرجی اور دمہ جیسی بیماریوں کے خطرے میں اضافہ کرتی ہے۔

امریکا کی نارتھ کیرولائنا اسٹیٹ یونیورسٹی میں کی گئی تحقیق کے مطابق، گھروں میں لال بیگوں کی موجودگی اور الرجی پیدا کرنے والے مادوں، خصوصاً اینڈوٹاکسنز (endotoxins) کے درمیان براہِ راست تعلق پایا گیا ہے۔ اینڈوٹاکسنز وہ بیکٹیریل ذرات ہیں جو جراثیم کے مرنے پر خارج ہوتے ہیں۔ چونکہ لال بیگ مختلف طرح کے گندے مواد کو کھاتے ہیں، اس لیے ان کے جسم میں جراثیم کی کئی اقسام موجود ہوتی ہیں، جو ان کے فضلے کے ذریعے گھر کے ماحول میں شامل ہوجاتی ہیں۔

تحقیق میں نارتھ کیرولائنا کے شہر رالی میں واقع متعدد اپارٹمنٹس میں لال بیگوں کی موجودگی اور ہوا میں موجود بیکٹیریل ذرات کا جائزہ لیا گیا۔ نتائج سے پتا چلا کہ جن گھروں میں لال بیگ زیادہ تھے، وہاں ان ذرات کی مقدار بھی نمایاں طور پر زیادہ تھی، جس سے رہائشیوں میں دمہ اور الرجی کا خطرہ بڑھ گیا۔

ماہرین کے مطابق، لال بیگوں کا خاتمہ صرف صفائی یا بدبو دور کرنے کے لیے نہیں بلکہ صحت کے تحفظ کے لیے بھی ضروری ہے، کیونکہ ان کی غیر موجودگی سے اینڈوٹاکسنز کی شرح میں واضح کمی آتی ہے۔

یہ تحقیق جرنل آف الرجی اینڈ کلینیکل امیونولوجی میں شائع ہوئی، جس میں ماہرین نے زور دیا ہے کہ مزید تحقیق کی جائے تاکہ یہ سمجھا جا سکے کہ یہ بیکٹیریل ذرات انسانی صحت پر کس طرح اثر انداز ہوتے ہیں

Related Posts