کراچی: سول اسپتال کراچی کی پولیس سرجن ڈاکٹر سمعیہ کا کہنا ہے کہ گل پلازہ کے ملبے سے اب لاشوں کے بجائے انسانی باقیات مل رہی ہیں، جن کی حالت انتہائی خراب ہے۔
پولیس سرجن ڈاکٹر سمعیہ کے مطابق اب تک دو دکانوں سے 21 انسانی باقیات سول اسپتال منتقل کی جا چکی ہیں۔ انہوں نے بتایا کہ تاحال یہ تصدیق ممکن نہیں کہ یہ باقیات 21 افراد کی ہیں یا کم و بیش تعداد میں متاثرین کی ہوسکتی ہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ آج صبح سے اسپتال میں صرف باقیات ہی لائی جا رہی ہیں۔
ڈاکٹر سمعیہ کے مطابق ملبے سے ملنے والی باقیات میں ٹوٹی ہوئی انسانی ہڈیاں اور دانت شامل ہیں۔ ہڈیاں بری طرح متاثر ہونے کے باعث ڈی این اے کے لیے نمونے لینا ممکن نہیں، جس کی وجہ سے باقیات کو ورثا کے حوالے کرنے میں شدید مشکلات پیش آ رہی ہیں۔
خیال رہے کہ کراچی میں آتشزدگی سے تباہ ہونے والے گل پلازہ میں سرچ آپریشن جاری ہے۔ میزنائن فلور سے مزید 30 لاشیں برآمد ہونے کے بعد جاں بحق افراد کی مجموعی تعداد 61 ہو گئی ہے۔
ڈی آئی جی ساؤتھ اسد رضا کے مطابق دکانداروں نے میزنائن فلور پر لوگوں کی موجودگی کی نشاندہی کی تھی، جس کے بعد سرچ آپریشن کیا گیا۔ تمام 30 لاشیں ایک کراکری کی دکان سے ملی ہیں۔ ان کے مطابق ملبہ ہٹانے کا کام روک دیا گیا ہے اور پہلے لاشیں نکالی جا رہی ہیں۔
آگ لگنے کے بعد کئی افراد نے جان بچانے کے لیے خود کو ایک دکان میں بند کر لیا تھا، جبکہ ان افراد کی آخری موبائل لوکیشن بھی اسی مقام کی سامنے آئی تھی۔
کراکری دکان کے مالک سلمان کا کہنا ہے کہ انہوں نے خود اپنی دکان سے 14 افراد کی باقیات نکالی ہیں۔ ان کے مطابق دکان میزنائن فلور پر واقع ہے اور واقعے کے وقت ان کے کزن، ملازمین، خواتین اور دیگر افراد بھی وہاں موجود تھے۔
حکام کے مطابق حادثے میں تین مزید لاشوں کی شناخت ہو چکی ہے، جبکہ 17 لاشیں تاحال ناقابل شناخت ہیں۔














