کراچی کی سڑکیں ایک بار پھر ہیوی ٹریفک کے بے قابو پہیوں تلے انسانی جانوں کا ضیاع دیکھ رہی ہیں۔ مختلف علاقوں میں پیش آنے والے ٹریفک حادثات میں دو افراد جان سے ہاتھ دھو بیٹھے، جبکہ متعدد زخمی ہو گئے۔
پہلا افسوسناک واقعہ لیاقت آباد نمبر 10 کے قریب پیش آیا، جہاں ایک تیز رفتار ٹرک نے موٹر سائیکل سوار کو کچل دیا۔ حادثے میں 55 سالہ شخص، جس کی شناخت صابر کے نام سے ہوئی، موقع پر ہی جاں بحق ہو گیا۔ واقعے کے بعد علاقے میں شدید اشتعال پھیل گیا۔ شہریوں نے ٹرک پر پتھراؤ کرکے اس کے شیشے توڑ دیے اور بعد ازاں اسے نذر آتش کر دیا۔ مشتعل ہجوم نے قریب سے گزرنے والی دیگر ہیوی گاڑیوں پر بھی پتھراؤ کیا۔
پولیس کے مطابق ٹرک ڈرائیور حادثے کے فوراً بعد موقع سے فرار ہو گیا، جس کی تلاش جاری ہے اور گرفتاری کے لیے کوششیں کی جا رہی ہیں۔
دوسرا واقعہ ملیر ماڈل کالونی کے قریب پیش آیا، جہاں ایک اور ٹرک نے موٹر سائیکل سواروں کو ٹکر مار دی۔ حادثے کے نتیجے میں ایک شخص جان کی بازی ہار گیا، جب کہ دو افراد شدید زخمی ہوئے، جن کی حالت تشویشناک بتائی جا رہی ہے۔
اس واقعے کے بعد بھی شہریوں میں غم و غصہ پھیل گیا۔ مشتعل افراد نے ٹرک کے شیشے توڑ دیے اور ڈرائیور کو تشدد کا نشانہ بنایا۔ پولیس نے موقع پر پہنچ کر ٹرک ڈرائیور کو حراست میں لیا اور اسے متعلقہ تھانے منتقل کر دیا۔
ان حادثات نے شہر میں ہیوی ٹریفک کی آزادانہ نقل و حرکت اور اس سے جڑے خطرات پر ایک بار پھر سوال اٹھا دیے ہیں۔ شہریوں نے مطالبہ کیا ہے کہ ٹریفک قوانین پر سختی سے عملدرآمد کیا جائے اور ہیوی گاڑیوں کی شہری علاقوں میں آمد و رفت کو محدود کیا جائے تاکہ قیمتی جانوں کا تحفظ ممکن بنایا جا سکے۔














