Welcome To Qalm-e-Sindh

کراچی ایئرپورٹ پر کسٹمز ڈیوٹی اور ٹیکس چوری کا بڑا اسکینڈل،کروڑوں روپے کا سامان ضبط

کراچی ایئرپورٹ پر کسٹمز حکام نے بڑی کارروائی کرتے ہوئے کسٹمز ڈیوٹی اور ٹیکس کی مبینہ چوری کے ایک بڑے اسکینڈل کا سراغ لگایا ہے۔ حکام نے 10 کروڑ 30 لاکھ روپے مالیت کا قیمتی الیکٹرانک سامان ضبط کر کے دو مقدمات درج کر لیے ہیں جبکہ متعدد ملازمین کو حراست میں لے لیا گیا ہے۔

ایف بی آر کے مطابق، یہ سامان بغیر گڈز ڈیکلریشن اور بغیر ٹیکس و کسٹمز ڈیوٹی ادا کیے ایئرپورٹ سے غیر قانونی طور پر باہر نکالا جا رہا تھا۔ اس کارروائی میں ایک غیر ملکی گراؤنڈ ہینڈلنگ کمپنی کے ملازمین اور بدعنوان درآمد کنندگان ملوث پائے گئے ہیں۔

حکام کے مطابق، غیر قانونی طریقے سے سامان نکالنے کے لیے جعلی گیٹ پاسز اور کسٹمز کے WeBOC سسٹم کو بائی پاس کیا گیا۔ سامان کی پانچ کنسائنمنٹس متحدہ عرب امارات میں رجسٹرڈ کمپنی میسرز پیر جیلانی جنرل ٹریڈنگ ایل ایل سی، دبئی کی جانب سے بھیجی گئی تھیں، جنہیں جعلی طریقے سے کلیئر کر کے باہر منتقل کیا گیا۔

حکام کے مطابق، صرف ایک کنسائنمنٹ سے درجِ ذیل قیمتی اشیا برآمد کی گئیں:

  • 258 عدد آئی فون 16

  • 101 عدد لیپ ٹاپس

  • 246 عدد ٹیبلیٹس

  • 102 عدد آئی پیڈز

  • 46 عدد پلے اسٹیشنز

  • 20,000 عدد میموری کارڈز

مجموعی طور پر پانچوں کنسائنمنٹس کی غیر قانونی کلیئرنس سے 38 کروڑ 40 لاکھ روپے کی کسٹمز ڈیوٹی اور ٹیکس چوری کی گئی، جو حکام کے مطابق ایک منظم فراڈ کا نتیجہ ہے۔

کارروائی کے دوران گیٹ پاس جاری کرنے والی خاتون کو حراست میں لے لیا گیا ہے، جنہوں نے ابتدائی بیان میں بتایا کہ وہ “اوپر سے دی گئی ہدایات” پر عمل کر رہی تھیں۔ اس کے علاوہ، نجی کارگو ٹرمینل کی جانب سے ایک ماہ سے زائد عرصے کا سی سی ٹی وی ریکارڈ فراہم کرنے میں ہچکچاہٹ پر بھی حکام نے تحفظات کا اظہار کیا ہے۔

مزید گرفتاریاں اور قانونی کارروائیاں متوقع ہیں۔ ایف بی آر کے چیئرمین نے واضح کیا ہے کہ ذمہ دار کسٹمز اہلکاروں کو کسی قسم کی رعایت نہیں دی جائے گی اور قانون کی مکمل عملداری کو یقینی بنایا جائے گا۔

Related Posts