Welcome To Qalm-e-Sindh

ڈمپر مافیا کے خلاف کارروائی کے لیے سندھ ہائی کورٹ میں درخواست دائر

کراچی میں ڈمپرز سے ہونے والی شہری ہلاکتوں کے خلاف سندھ ہائی کورٹ میں درخواست دائر کردی گئی ہے۔ درخواست تحریکِ بحالی کراچی کے رہنما اشرف جبار قریشی اور دیگر نے دائر کی، جس میں متعلقہ حکام کو فریق بناتے ہوئے ڈمپر مافیا کے خلاف کارروائی کی استدعا کی گئی ہے۔

درخواست گزار کے مطابق فریقین صوبے کے عوام کو بنیادی سہولیات جیسے پانی، سیوریج، سڑکوں کی تعمیر اور امن و امان فراہم کرنے میں بری طرح ناکام ہو چکے ہیں۔ خاص طور پر ڈمپرز کی وجہ سے پیش آنے والے جان لیوا حادثات پر متعلقہ اداروں کی چشم پوشی شہریوں کی زندگیوں کے ساتھ کھلا مذاق ہے۔ درخواست میں مؤقف اپنایا گیا ہے کہ اب تک 600 سے زائد شہری ڈمپرز کے ہاتھوں اپنی جانوں سے ہاتھ دھو بیٹھے ہیں، جبکہ جاں بحق افراد کے لواحقین کو انصاف فراہم کرنے کے بجائے سرکاری افسران ڈمپر مافیا کے ساتھ خفیہ ملاقاتیں کرتے ہیں۔ مزید کہا گیا کہ بیشتر ڈمپر ڈرائیور نہ صرف غیرملکی ہیں بلکہ وہ پاکستانی قوانین کو تسلیم بھی نہیں کرتے۔

درخواست میں یہ بھی انکشاف کیا گیا کہ 10 اگست کو رات 2 بجے، راشد منہاس روڈ پر ایک تیز رفتار ڈمپر نے دو معصوم بہن بھائیوں کو کچل کر ہلاک کر دیا۔ واقعے کے بعد مافیا نے خود ہی چند ڈمپرز کو آگ لگا دی اور اس کا الزام علاقے کے نوجوانوں پر ڈال دیا، جس کے نتیجے میں پولیس نے درجن بھر نوجوانوں کو گرفتار کر لیا۔ درخواست گزار نے عدالت سے استدعا کی ہے کہ متعلقہ حکام کو حکم دیا جائے کہ وہ ڈمپرز کی رجسٹریشن، فٹنس سرٹیفکیٹس اور دیگر ریکارڈ عدالت میں پیش کریں۔ ساتھ ہی درخواست میں سپریم کورٹ اور ہائیکورٹ کی جانب سے ٹریفک اور شہری سلامتی کے حوالے سے جاری احکامات پر فوری عملدرآمد یقینی بنانے کی بھی اپیل کی گئی ہے۔ درخواست میں چیف سیکرٹری سندھ، ہوم سیکرٹری، آئی جی سندھ، اور ایڈیشنل آئی جی ٹریفک کو فریق بنایا گیا ہے۔

Related Posts