چینی نائب وزیر سن ہائی یان نے کہا ہے کہ چین کی ترقی دراصل پاکستان کی ترقی ہے۔ انہوں نے بتایا کہ سی پیک کے پہلے مرحلے کی کامیابی کے بعد اب اس کے دوسرے مرحلے کا آغاز کیا جا رہا ہے۔
اسلام آباد میں میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے چینی نائب وزیر نے کہا کہ سی پیک کا دوسرا مرحلہ نسبتاً پیچیدہ ہے، جسے کامیاب بنانے کے لیے مزید شراکت داروں کو شامل کرنا ہوگا۔ ان کا کہنا تھا کہ دوسرے مرحلے کے تحت صنعتی ترقی اور روزگار کے نئے مواقع پیدا کرنے پر خصوصی توجہ دی جا رہی ہے۔
سن ہائی یان نے بتایا کہ چین نے پاکستان میں صنعتی پارکس اور اسکولز قائم کیے ہیں اور مزید منصوبوں پر کام جاری ہے۔ انہوں نے کہا کہ پاکستان میں عوام کے لیے روزگار کے نئے مواقع پیدا کیے جا رہے ہیں، جبکہ 30 ہزار سے زائد پاکستانی طلبہ چین میں اسکالرشپس پر تعلیم حاصل کر رہے ہیں۔ انہوں نے مزید بتایا کہ چین پاکستان میں 100 اسپتال قائم کر رہا ہے، 80 ہزار میڈیکل ڈیوائسز فراہم کی جا رہی ہیں اور پاکستانی نرسز اور ڈاکٹرز کو تربیت بھی دی جا رہی ہے۔
چینی نائب وزیر نے کہا کہ چین اور پاکستان کے دو طرفہ تعلقات میں نمایاں پیش رفت ہوئی ہے اور اس سال پاک چین دوستی کے 75 سال مکمل ہو رہے ہیں۔ انہوں نے بتایا کہ پاکستان میں مختلف سیاسی جماعتوں کے رہنماؤں سے مشاورت کی گئی ہے اور دونوں ممالک کے تعلقات کو بلند ترین سطح پر لے جانے کا عزم ہے۔
سن ہائی یان کا کہنا تھا کہ چین میں گزشتہ پانچ برسوں کے دوران جی ڈی پی کی شرح نمو 5.5 فیصد سے زائد رہی، بڑی تعداد میں لوگوں کو غربت سے نکالا گیا اور عوام کی آمدنی میں 30 فیصد اضافہ ہوا۔ انہوں نے کہا کہ آئندہ پانچ برسوں میں چین اپنی معیشت کو نئی بلندیوں تک لے جانے کا ارادہ رکھتا ہے اور اپنی مارکیٹ کو دیگر ممالک کے لیے کھول رہا ہے تاکہ انہیں رسائی فراہم کی جا سکے۔














