Welcome To Qalm-e-Sindh

پنجاب میں سیلابی صورتحال سنگین،دریائے سندھ میں سیلاب کب داخل ہوگا؟ فلڈ فورکاسٹنگ ڈویژن کی سیلابی ریلہ

پنجاب کے مختلف علاقوں میں سیلابی صورتحال سنگین صورت اختیار کر گئی ہے۔ دریائے چناب میں خانکی اور قادر آباد کے مقامات پر انتہائی اونچے درجے کا سیلاب ریکارڈ کیا گیا ہے، جبکہ مرالہ اور تریمو کے مقامات پر درمیانے درجے کا سیلاب ہے۔ دریائے راوی میں جسر کے مقام پر اونچے درجے اور شاہدرہ و بلوکی کے مقامات پر انتہائی اونچے درجے کا سیلاب موجود ہے۔

بھارت کی جانب سے پانی چھوڑے جانے کے باعث پنجاب میں سیلابی کیفیت پیدا ہوئی ہے، جس کا اثر دریائے سندھ تک بھی پہنچ رہا ہے۔ دریائے سندھ میں گدو، سکھر اور کوٹری کے مقامات پر نچلے درجے کا سیلاب موجود ہے، جبکہ 4 اور 5 ستمبر کو گدو اور سکھر کے مقامات پر بہت اونچے درجے کا سیلاب آنے کا امکان ظاہر کیا گیا ہے۔

تربیلا ڈیم مکمل طور پر بھر چکا ہے اور پانی کی سطح 1550 فٹ تک پہنچ گئی ہے، جو اس کی زیادہ سے زیادہ گنجائش ہے۔ منگلا ڈیم میں بھی پانی کی سطح 1222 فٹ ہو چکی ہے جبکہ اس کی مکمل گنجائش 1242 فٹ ہے۔

فلڈ فورکاسٹنگ حکام کے مطابق دریائے سندھ کے اپر کیچمنٹ ایریاز میں موسم خشک رہے گا، تاہم راولپنڈی ڈویژن جیسے زیریں علاقوں میں گرج چمک کے ساتھ بارش کا امکان ہے۔ اسی طرح دریائے چناب کے بالائی اور زیریں کیچمنٹ ایریاز میں بھی گرج چمک کے ساتھ بارش کی پیشگوئی کی گئی ہے۔ دریائے راوی کے زیریں علاقوں میں بھی بارش متوقع ہے، جبکہ دریائے ستلج کے دونوں کیچمنٹ ایریاز میں موسم خشک رہنے کا امکان ہے۔

دریائے سندھ میں تربیلا، کالا باغ اور چشمہ کے مقامات پر پانی کی سطح سیلابی حد سے کم ہے، جبکہ تونسہ، گدو، سکھر اور کوٹری کے مقام پر نچلے درجے کا سیلاب ہے۔ دریائے کابل اور جہلم میں بھی پانی کی سطح سیلابی حد سے نیچے ہے۔ منگلا اور رسول کے مقامات پر بھی یہی صورتحال برقرار ہے۔

دریائے ستلج میں گنڈا سنگھ والا کے مقام پر انتہائی اونچے درجے کے سیلاب کی پیشگوئی ہے، جو بھارت کی جانب سے پانی چھوڑے جانے کے باعث متوقع ہے۔ دریائے راوی میں شاہدرہ کے مقام پر پانی کی سطح مسلسل بلند ہو رہی ہے، تاہم اگلے 24 گھنٹوں میں اس میں کمی کی توقع ہے۔

دریائے چناب میں تریمو کے مقام پر 29 اگست کی شام انتہائی اونچے درجے کا سیلاب آنے کی پیشگوئی کی گئی ہے، جبکہ پنجند کے مقام پر 2 ستمبر کو بہت اونچے درجے کا سیلاب متوقع ہے۔ عوام کو احتیاطی تدابیر اختیار کرنے، ضلعی انتظامیہ سے رابطے میں رہنے اور ممکنہ خطرات کے پیشِ نظر محفوظ مقامات کی طرف نقل مکانی کرنے کی ہدایت کی گئی ہے۔

Related Posts