پاکستان میں پہلی بار سیلابی صورتحال کے دوران تھرمل ٹیکنالوجی کا استعمال کرتے ہوئے مختلف علاقوں میں ریسکیو آپریشن کیا گیا۔ اس ٹیکنالوجی کی مدد سے رات کے اندھیرے میں ایسے مقامات پر متاثرہ افراد کو تلاش کیا گیا جہاں عام انسانی آنکھ سے دیکھنا ممکن نہیں تھا۔ ریسکیو اہلکاروں نے 490 سے زائد افراد کو نکال کر محفوظ مقامات پر منتقل کیا۔
اوکاڑہ، جھنگ، شورکوٹ، احمد پور سیال اور دیگر علاقوں میں یہ آپریشن کیے گئے۔ متاثرہ علاقوں میں جھنگ سٹی بند، پنڈی محلہ، کھلڑا، ددوآنڑاں، علی پور، ٹھٹھہ جبانڑاں، مساں، واجد آباد شاہ جیونہ، ڈب کلاں، دربار عبدالرزاق اور ولی محمد جھندیر شامل ہیں، جہاں سے مختلف مقامات پر پھنسے افراد کو نکالا گیا۔
پنجاب بھر میں دریاؤں میں سیلابی صورتحال جاری ہے جس سے اب تک بیس لاکھ سے زائد افراد متاثر ہو چکے ہیں جبکہ ہلاکتوں کی تعداد 33 بتائی جا رہی ہے۔
وزیراعلیٰ پنجاب نے اس آپریشن میں استعمال کی گئی ٹیکنالوجی اور نتائج کی رپورٹ طلب کرتے ہوئے کہا کہ تھرمل ٹیکنالوجی کی مدد سے ان مقامات تک رسائی ممکن ہوئی جہاں عام طریقوں سے متاثرین تک پہنچنا دشوار تھا۔














