رواں برس پاکستان میں بلند و بالا پہاڑوں کو سر کرنے کے لیے آنے والے غیر ملکی کوہ پیماؤں کی تعداد میں نمایاں کمی ریکارڈ کی گئی ہے۔ گزشتہ سال جہاں دو ہزار سے زائد کوہ پیما دنیا کے دوسرے بلند ترین پہاڑ سمیت مختلف بلند چوٹیوں کو سر کرنے پاکستان آئے تھے، وہیں اس سال یہ تعداد گھٹ کر صرف 270 رہ گئی۔
الپائن کلب کے مطابق اس سال کے ٹو کو صرف 40 کوہ پیماؤں نے سر کیا جبکہ نانگا پربت پر صرف 25 کوہ پیما پہنچ سکے۔ پاکستان میں واقع دنیا کی مشہور بلند چوٹیوں میں کے ٹو، نانگا پربت، براڈ پیک، گیشربرم ون اور گیشربرم ٹو شامل ہیں، جنہیں ہر سال درجنوں بین الاقوامی مہم جو سر کرنے کے لیے آتے ہیں۔
تاہم اس سال کوہ پیماؤں کی آمد میں کمی کی کئی وجوہات سامنے آئی ہیں۔ الپائن کلب کا کہنا ہے کہ موسمیاتی تبدیلی کے اثرات کے باعث موسم زیادہ غیر متوقع اور شدید رہا، جس کی وجہ سے کئی ٹیمیں اپنی مہمات مکمل کرنے میں ناکام رہیں۔ شدید برفباری، غیر متوقع برفانی تودے اور دیگر خطرناک حالات نے کوہ پیماؤں کو پیش قدمی سے روک دیا۔
اس کے علاوہ خطے میں جاری کشیدہ صورتحال، خصوصاً پاک بھارت تعلقات میں تناؤ اور مشرق وسطیٰ میں ایران و اسرائیل کے درمیان بڑھتی ہوئی کشیدگی نے بھی غیر ملکی کوہ پیماؤں کو پاکستان آنے سے روکے رکھا۔ سیکیورٹی خدشات اور سفری مشکلات بھی اس کمی کی ایک بڑی وجہ بتائی جا رہی ہیں۔
کوہ پیماؤں کی آمد میں اس کمی نے نہ صرف ملک کی مہم جو سیاحت کو متاثر کیا ہے بلکہ مقامی گائیڈز، پورٹرز، ہوٹلز اور دیگر متعلقہ کاروباروں پر بھی براہ راست منفی اثر ڈالا ہے۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ اگر اس رجحان پر قابو نہ پایا گیا تو پاکستان کی مہماتی سیاحت کو طویل المدتی نقصان پہنچ سکتا ہے۔














