Welcome To Qalm-e-Sindh

وفاقی کابینہ سے 27ویں آئینی ترمیم کا مسودہ کل منظور ہونے کا امکان، وزیراعظم نے اجلاس طلب کر لیا

وفاقی کابینہ سے 27ویں آئینی ترمیم کے مسودے کی کل منظوری دیے جانے کا امکان ہے۔ وزیراعظم شہباز شریف نے کابینہ کا اجلاس صبح 9 بجے طلب کر لیا ہے۔

ذرائع کے مطابق اجلاس میں کابینہ ارکان کو مجوزہ آئینی ترمیم کے اہم نکات پر بریفنگ دی جائے گی، جس کے بعد ترمیمی مسودے کی منظوری متوقع ہے۔

حکومت نے 27ویں آئینی ترمیم پر اتفاقِ رائے کے لیے اتحادی جماعتوں سے رابطے بھی تیز کر دیے ہیں۔ وزیراعظم شہباز شریف نے ایم کیو ایم پاکستان، پاکستان مسلم لیگ (ق) اور استحکام پاکستان پارٹی کے وفود سے الگ الگ ملاقاتیں کیں جن میں ترمیم سے متعلق تفصیلی تبادلہ خیال ہوا۔

ذرائع کے مطابق وزیراعظم نے ایم کیو ایم کے وفد کو یقین دلایا کہ بلدیاتی نظام سے متعلق ان کی آئینی تجاویز کو 27ویں ترمیم کا حصہ بنایا جائے گا، جبکہ مسلم لیگ (ن) اس بلدیاتی مسودے کی حمایت کرے گی۔

علیم خان کی قیادت میں استحکام پاکستان پارٹی کے وفد اور وفاقی وزیر چوہدری سالک حسین کی سربراہی میں مسلم لیگ (ق) کے وفد نے بھی وزیراعظم سے ملاقات کی اور مجوزہ ترمیم پر اپنی تجاویز پیش کیں۔

ذرائع کے مطابق اسپیکر قومی اسمبلی کی زیر صدارت ہاؤس بزنس ایڈوائزری کمیٹی کے اجلاس میں فیصلہ کیا گیا ہے کہ 27ویں آئینی ترمیم پہلے سینیٹ سے منظور کرائی جائے گی۔

ترمیم کی منظوری کے لیے سینیٹ میں 64 ووٹ درکار ہیں، جبکہ 61 رکنی حکومتی اتحاد کو جے یو آئی (ف) یا اے این پی کے تین ارکان کی حمایت درکار ہوگی۔ قومی اسمبلی میں ترمیم کی منظوری کے لیے 224 ووٹ درکار ہیں، اور حکومتی اتحاد کو 237 ارکان کی حمایت حاصل ہے۔

ان میں مسلم لیگ (ن) کے 125، پیپلز پارٹی کے 74، ایم کیو ایم پاکستان کے 22، مسلم لیگ (ق) کے 5، استحکام پاکستان پارٹی کے 4، جبکہ مسلم لیگ ضیاء، نیشنل پارٹی، بلوچستان عوامی پارٹی کے ایک ایک رکن اور 4 آزاد ارکان شامل ہیں۔

ترمیم کی منظوری یقینی بنانے کے لیے وزیراعظم نے تمام وفاقی وزرا اور ارکانِ پارلیمنٹ کے غیر ملکی دورے منسوخ کر دیے ہیں۔

Related Posts