وزیر اطلاعات پنجاب عظمیٰ بخاری نے وزیراعلیٰ خیبرپختونخوا سہیل آفریدی کے دورہ لاہور پر ردِعمل دیتے ہوئے کہا ہے کہ وہ پاکستان کا یورپ دیکھنے لاہور آئے ہیں۔
عظمیٰ بخاری نے کہا کہ وزیراعلیٰ خیبرپختونخوا کو لاہور آمد پر خوش آمدید کہتے ہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ اس سے قبل جب علی امین گنڈاپور لاہور آئے تھے تو انہیں شہر کی بتیاں دکھائی گئیں۔ وزیراعلیٰ کے پی لاہور میں بتیاں دیکھیں، روٹی کھائیں اور تصویریں بنوائیں، اور جو کچھ پنجاب میں دیکھیں اسے واپس جا کر خیبرپختونخوا میں نافذ کریں۔
وزیراطلاعات پنجاب نے کہا کہ سہیل آفریدی کو ان کی کابینہ نے بتایا ہے کہ پشاور میں صفائی کے مسائل ہیں، اسی لیے وہ لاہور آئے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ وزیراعلیٰ کے پی کو سیاسی یا معلوماتی تفریح کی مکمل اجازت ہوگی، تاہم بدزبانی، فساد یا انتشار کی اجازت نہیں دی جائے گی۔
عظمیٰ بخاری کا کہنا تھا کہ پنجاب یا لاہور میں کسی سیاسی سرگرمی کی آڑ میں اسلحہ یا منشیات لانے کی اجازت نہیں ہوگی۔ انہوں نے کہا کہ جب علی امین گنڈاپور پنجاب آئے تھے تو انہیں مکمل سہولیات فراہم کی گئی تھیں۔
انہوں نے مزید بتایا کہ لاہور پولیس نے آج وزیراعلیٰ خیبرپختونخوا کے اسٹاف سے خود رابطہ کیا تاہم کوئی جواب موصول نہیں ہوا۔ ان کا کہنا تھا کہ پنجاب میں مہمانوں کی بھرپور مہمان نوازی کی جاتی ہے، مگر مہمانوں سے بھی توقع کی جاتی ہے کہ وہ مہمان بن کر آئیں۔
واضح رہے کہ وزیراعلیٰ خیبرپختونخوا سہیل آفریدی لاہور پہنچ چکے ہیں، جہاں وہ پنجاب اسمبلی میں اپوزیشن ارکان سے ملاقات اور خطاب کریں گے۔
اسمبلی سیکریٹریٹ نے وزیراعلیٰ خیبرپختونخوا اور ان کے وفد کے داخلے کی اجازت دے دی ہے۔ اس حوالے سے اپوزیشن لیڈر پنجاب اسمبلی معین ریاض قریشی کا کہنا ہے کہ سہیل آفریدی کی آمد کے پیش نظر پنجاب اسمبلی سیکریٹریٹ کو سکیورٹی کے لیے تحریری طور پر آگاہ کر دیا گیا ہے، اور کسی بھی بدتمیزی کی صورت میں احتجاج کیا جائے گا۔
ڈپٹی اسپیکر پنجاب اسمبلی ظہیر اقبال چنڑ نے کہا ہے کہ وزیراعلیٰ خیبرپختونخوا کی لاہور آمد کے موقع پر کسی قسم کی رکاوٹ نہیں ڈالی گئی، اگر وہ پنجاب اسمبلی آنا چاہتے ہیں تو ضرور آئیں، کسی نے انہیں نہیں روکا۔














