وزیراعلیٰ خیبرپختونخوا سہیل آفریدی نے وفاقی حکومت پر 5300 ارب روپے کی کرپشن کا الزام لگاتے ہوئے کہا کہ یہ عوام کے ٹیکس کا پیسہ ہے جس سے بیرونِ ملک فلیٹس اور جزیرے خریدے جا رہے ہیں۔
انجینئرنگ یونیورسٹی میں تقریب سے خطاب کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ این ایف سی اجلاس میں ضم اضلاع کے فنڈز صوبے کو دینے کا معاملہ اٹھائیں گے۔ فاٹا کے انضمام کے بعد صوبے کا حصہ 19 فیصد بنتا ہے، تاہم گزشتہ سات سال سے ہر سال 350 ارب روپے کا حصہ نہیں مل رہا۔
بعد ازاں اڈیالہ جیل کے قریب گورکھپور ناکے پر میڈیا سے گفتگو میں سہیل آفریدی نے کہا کہ بانی پی ٹی آئی سے ملاقات نہ کرانے پر خدشات بڑھ رہے ہیں اور اس معاملے کے حل کے لیے آخری راستے پر غور کیا جا رہا ہے۔ انہوں نے واضح کیا کہ وہ بانی پی ٹی آئی کی صحت سے متعلق معلومات حاصل کرنا چاہتے ہیں۔
وزیراعلیٰ خیبرپختونخوا نے کہا کہ تمام قانونی اور جمہوری راستے اپنائے جا چکے ہیں۔ میں خود دھرنے میں آنا چاہتا تھا، لیکن بانی پی ٹی آئی کی بہنوں نے اسے روکا۔ انہوں نے کہا کہ حکومت کے پاس کوئی حقیقی اختیار نہیں، اور حالیہ ضمنی انتخابات میں بھی 95 فیصد ووٹرز نے ووٹ نہیں دیا، جسے انہوں نے بانی پی ٹی آئی سے اظہار یکجہتی قرار دیا۔














