میئر کراچی مرتضیٰ وہاب نے بھینس کالونی کو مہران ہائی وے سے جوڑنے والے نئے پل کا سنگِ بنیاد رکھ دیا۔ یہ منصوبہ شہریوں کے لیے آمد و رفت کو سہل بنانے اور ٹریفک دباؤ میں کمی کے لیے اہم پیش رفت قرار دیا جا رہا ہے۔
اس موقع پر میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے میئر کراچی نے بتایا کہ عظیم پورہ انٹرسیکشن پر 682 میٹر طویل پل تعمیر کیا جا رہا ہے، جس کے مکمل ہونے سے شہری شاہ فیصل کالونی کی ٹریفک میں پھنسے بغیر براہِ راست شاہراہِ فیصل تک رسائی حاصل کر سکیں گے۔ ان کا کہنا تھا کہ یہ پل 100 دنوں میں مکمل کرکے عوام کے لیے کھول دیا جائے گا۔
مرتضیٰ وہاب نے مزید کہا کہ مرغی خانہ پر بھی ایک نیا پل تعمیر کیا جا رہا ہے، جو 6 ماہ میں مکمل ہوگا۔ انہوں نے اس بات پر زور دیا کہ نیت اور فنڈز کا کوئی مسئلہ درپیش نہیں، نہ ہی کسی قسم کی تنظیمی رکاوٹ موجود ہے۔ “لوگوں کے مسائل کو صرف سمجھیں گے نہیں، بلکہ عملی طور پر حل بھی کریں گے”، انہوں نے کہا۔
پانی کی فراہمی کے حوالے سے بات کرتے ہوئے میئر کراچی نے اعلان کیا کہ حب ڈیم سے شہر کے لیے پانی کے موجودہ کوٹے کو 100 ایم جی ڈی سے بڑھا کر 200 ایم جی ڈی کیا جا رہا ہے۔ انہوں نے بتایا کہ اضافی پانی کی فراہمی کے لیے انفرااسٹرکچر 31 دسمبر تک دستیاب ہوگا، جبکہ نئی حب کینال ساڑھے 9 ماہ میں مکمل کی جائے گی۔
میئر کا کہنا تھا کہ حالیہ بارشوں میں حب کینال کے صرف 20 میٹر حصے کو نقصان پہنچا، لیکن اس پر غیر ضروری شور مچایا گیا، جبکہ دیگر علاقوں میں شدید نقصانات پر توجہ نہیں دی جاتی۔ انہوں نے تنقید کرتے ہوئے کہا کہ بعض عناصر صرف دکھاوے کی سیاست کر رہے ہیں، مثلاً ایسی سڑکوں کے افتتاح جو جلد ہی ٹوٹ جاتی ہیں۔
مرتضٰی وہاب نے دعویٰ کیا کہ کراچی کی گلیوں کی تعمیر، پرانی مارکیٹوں کی بحالی، اور دیگر بنیادی ڈھانچے کے منصوبے تیزی سے جاری ہیں، اور شہریوں کو بہت جلد ان کا عملی فائدہ پہنچے گا۔














