لاہور: ڈائریکٹر جنرل پروونشل ڈیزاسٹر مینجمنٹ اتھارٹی (پی ڈی ایم اے) پنجاب عرفان علی کاٹھیا نے بتایا ہے کہ مون سون کے نویں اسپیل نے پنجاب میں زبردست تباہی مچائی ہے، جہاں نہ صرف سیلابی صورتحال سنگین ہے بلکہ اربن فلڈنگ کے مسائل بھی درپیش ہیں۔
انہوں نے بتایا کہ پنجاب کے مختلف اضلاع میں سیلاب کی شدت کے باعث اب تک 33 افراد جان کی بازی ہار چکے ہیں جبکہ تقریباً 20 لاکھ سے زائد لوگ متاثر ہوئے ہیں۔ متاثرہ علاقوں سے ساڑھے 7 لاکھ افراد اور لاکھوں جانور محفوظ مقامات پر منتقل کیے جا چکے ہیں۔ حکومت کی توجہ مکمل طور پر انسانی جانوں اور جانوروں کی حفاظت پر مرکوز ہے۔
عرفان علی کاٹھیا نے کہا کہ مون سون کے حالیہ اسپیل نے نارووال، سیالکوٹ اور گوجرانوالہ میں حالات کو مزید خراب کر دیا ہے۔ بارشوں کی وجہ سے پانی کی نکاسی کا عمل سست ہو گیا ہے جس سے پہلے سے جمع پانی میں اضافہ ہو رہا ہے، جس کے باعث پانی کے نکالنے میں مزید وقت درکار ہوگا۔
ان کا کہنا تھا کہ پنجاب کے تینوں بڑے دریاوں میں سیلابی صورتحال انتہائی تشویشناک ہے۔ دریائے راوی میں پانی کا بہاؤ دو لاکھ 11 ہزار 395 کیوسک تک پہنچ چکا ہے جبکہ دریائے ستلج کے گنڈا سنگھ والا مقام پر پانی کی سطح دو لاکھ 53 ہزار کیوسک ہو گئی ہے، جو علاقے میں مزید خطرات کی علامت ہے۔














