Welcome To Qalm-e-Sindh

مریم نواز کا مری کیلئے ٹرین اور گرین لائن بس چلانے کا اعلان

وزیراعلیٰ پنجاب مریم نواز نے سیاحتی شہر مری میں اہم ترقیاتی منصوبوں کا اعلان کرتے ہوئے کہا ہے کہ ہم نے وعدے نہیں، عملی اقدامات کیے ہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ مری کو دنیا کا بہترین سیاحتی مقام بنانے کا عزم ہے، اور اس مقصد کے لیے مربوط منصوبہ بندی کے ساتھ کام جاری ہے۔

مری میں ایک تقریب سے خطاب کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ کم عرصے میں نواز شریف کارڈیالوجی سینٹر مکمل کر کے فعال کر دیا گیا ہے، جہاں اب تک 5 مریضوں کی انجیوگرافی ہوچکی ہے، اور جلد کارڈیک سرجری کا آغاز بھی کر دیا جائے گا۔ انہوں نے مری میں مریضوں سے ملاقات کی اور سینٹر کی سہولیات کا جائزہ لیا۔

مریم نواز نے کہا کہ مری ماضی میں تو ڈسٹرکٹ تھا، لیکن اسے پنڈی سے چلایا جا رہا تھا۔ اب اس کا پولیس، صحت اور تعلیم کا نظام علیحدہ کر دیا گیا ہے تاکہ انتظامی معاملات مقامی سطح پر مؤثر انداز میں چلائے جا سکیں۔ ان کا کہنا تھا: “میں نے سڑک پہلے بنائی، اعلان بعد میں کیا۔”

وزیراعلیٰ پنجاب نے مزید بتایا کہ مری میں اسکولوں کی اپ گریڈیشن کی جا رہی ہے اور علاقے کے لیے ایک جامع واٹر سپلائی منصوبہ بھی لایا جا رہا ہے۔ سینیٹیشن کے لیے جدید اسکیمیں تیار کی گئی ہیں جبکہ “ٹورازم فورس” تشکیل دے دی گئی ہے، جو سیاحوں کی رہنمائی اور سہولت کاری میں مدد دے گی۔

انہوں نے کہا کہ “ایکسپریس وے” کی تعمیر مکمل ہوچکی ہے، جس سے لاکھوں لوگ مستفید ہو رہے ہیں۔ مری میں “ستھرا پنجاب” پروگرام کے تحت گلی محلوں کی صفائی کا مربوط نظام نافذ کیا جا رہا ہے۔ مریم نواز کے مطابق مری کارڈیالوجی سینٹر نہ صرف مقامی لوگوں بلکہ گلیات کے عوام کے لیے بھی سہولت کا باعث بنے گا، جب کہ بھوربن میں جدید سہولتوں سے آراستہ ایک نیا اسپتال بھی تعمیر کیا جائے گا۔

انہوں نے انتظامیہ کو ہدایت دی کہ ساملی اسپتال کے لیے فوری طور پر تین بسیں چلائی جائیں تاکہ عوام کو سفری سہولت میسر ہو۔ مزید برآں، مری کے لیے 15 نئی بسوں کا آرڈر دے دیا گیا ہے، جن میں بزرگوں، طلبہ اور خواتین کے لیے گرین لائن بس سروس مفت ہوگی۔

سب سے اہم اعلان مری کیلئے ٹرین سروس کے آغاز کا تھا۔ ان کا کہنا تھا کہ سیاحوں کو اپنی گاڑیاں لانے کی ضرورت نہیں پڑے گی، کیونکہ پبلک ٹرانسپورٹ کا موثر نظام قائم کیا جا رہا ہے۔

اختتام پر مریم نواز نے کہا کہ بہت سے لوگ صرف وعدے کرتے ہیں اور خالی دعوے کرتے ہیں، لیکن ہماری ترجیح کام ہے، نہ کہ اشتہار۔ “ہم دفتر میں بیٹھنے کے بجائے میدان میں کام کرتے ہیں۔ ہم نے بغیر وعدوں کے عملی کام مکمل کیے ہیں۔”

Related Posts