اسلام آباد: وزیر مملکت برائے داخلہ سینیٹر طلال چوہدری نے دعویٰ کیا ہے کہ پاکستان دنیا کا پانچواں بڑا ملک ہے اور لاہور، لندن سے زیادہ محفوظ شہر ہے۔
سینیٹ کی قائمہ کمیٹی برائے داخلہ کے اجلاس میں گاڑیوں کے کالے شیشوں سے متعلق معاملے پر تفصیلی بحث ہوئی۔ چیئرمین کمیٹی نے کہا کہ بیرونِ ملک کالے شیشوں کے استعمال پر اضافی فیس جمع کرائی جاتی ہے، اگر کوئی شخص سکیورٹی وجوہات یا شوق کی بنیاد پر کالے شیشے استعمال کرتا ہے تو اسے فیس ادا کرنی چاہیے۔
چیئرمین کمیٹی نے نشاندہی کی کہ کمیٹی کی گزشتہ میٹنگ میں پالیسی بننے تک کارروائی نہ کرنے کی ہدایت دی گئی تھی، اس کے باوجود لوگوں پر 50 ہزار روپے تک کے جرمانے عائد کیے گئے۔
وزیر مملکت برائے داخلہ سینیٹر طلال چوہدری نے کہا کہ کمیٹی اس معاملے میں رہنمائی فراہم کرے، کیونکہ کالے شیشوں سے متعلق کوئی جامع پالیسی نہ وفاق میں موجود ہے اور نہ ہی صوبوں میں۔ اس پر چیئرمین کمیٹی نے سوال اٹھایا کہ جب پالیسی موجود نہیں تو جرمانے کس بنیاد پر کیے جا رہے ہیں۔ طلال چوہدری نے جواب دیا کہ ایکسائز سے متعلق ایک قانون موجود ہے جس کے تحت کارروائی کی جا رہی ہے۔
انہوں نے کہا کہ دس سال قبل کالے شیشوں کے اجازت نامے جاری کیے جاتے تھے، تاہم ان کا غلط استعمال ہوا۔ ان کے مطابق کالے شیشے اب ایک فیشن بن چکے ہیں اور لوگ اسکن کی بیماری کو جواز بناتے ہیں، جبکہ 50 ہزار روپے جرمانے کا قانون پہلے سے موجود ہے۔
اجلاس کے دوران کمیٹی کی رکن ثمینہ ممتاز نے کہا کہ ملک میں سکیورٹی خدشات موجود ہیں اور پولیس شہریوں کو مکمل تحفظ فراہم کرنے میں ناکام نظر آتی ہے۔ انہوں نے کچے کے علاقے میں پیش آنے والے واقعے اور سکیورٹی خدشات کے باعث کمیٹی کے ایک رکن کی شہادت کا حوالہ بھی دیا۔
اس موقع پر سینیٹر طلال چوہدری نے کہا کہ پاکستان دنیا کا پانچواں بڑا ملک ہے اور جرائم پوری دنیا میں ہوتے ہیں، تاہم لاہور لندن سے زیادہ محفوظ ہے۔ اس پر سینیٹر طلحہ محمود نے اختلاف کرتے ہوئے کہا کہ اپر دیر میں لوگوں کو روک کر ان کے گلے کاٹے جا رہے ہیں، اور ایسے حالات میں پاکستان کو لندن یا نیویارک سے زیادہ محفوظ قرار دینا درست نہیں۔














