Welcome To Qalm-e-Sindh

فورسز کسی بھی شخص کو 3ماہ تک حراست میں رکھنےکی مجاز ہونگی، انسداد دہشتگردی ایکٹ ترمیمی بل منظور

قومی اسمبلی نے انسداد دہشت گردی ایکٹ میں ترمیم کا بل کثرت رائے سے منظور کر لیا ہے، جس کے تحت فورسز کو کسی بھی شخص کو تین ماہ تک حفاظتی حراست میں رکھنے کا اختیار حاصل ہوگا۔

قومی اسمبلی کے اجلاس کی صدارت اسپیکر نے کی، جہاں بل کی حمایت میں 125 ووٹ ڈالے گئے جبکہ مخالفت میں 45 ووٹ آئے۔ اجلاس کے دوران جے یو آئی کی رکن عالیہ کامران نے بل کی جلد منظوری پر اعتراض کیا، جس پر وزیر مملکت داخلہ نے کہا کہ ملک میں دہشت گردی کے حالیہ واقعات کی روشنی میں یہ قانون ضروری ہے۔

مولانا فضل الرحمان نے بل کی مخالفت کرتے ہوئے کہا کہ یہ قانون انسانی حقوق اور شریعت کے خلاف ہے اور اس سے پاکستان کے ہر شہری کو پیدائشی مجرم قرار دیا جا رہا ہے۔ انہوں نے کہا کہ ادارے کسی بھی فرد کو بلا جواز حراست میں لے سکتے ہیں اور بعد میں بے گناہی ثابت کرنا شہری کی ذمہ داری ہوگی۔

اپوزیشن نے بل کی گنتی کو بھی چیلنج کیا لیکن گنتی کے بعد بل کی حمایت میں اکثریت ثابت ہوئی۔ جے یو آئی کی جانب سے ترمیم پیش کی گئی تاکہ بل کو اسلامی نظریاتی کونسل بھیجا جائے، مگر یہ ترمیم مسترد کر دی گئی جس کے بعد جے یو آئی نے احتجاجاً واک آؤٹ کیا۔

پیپلزپارٹی کے نوید قمر کی ایک ترمیم بھی منظور کی گئی جس میں معقول شکایت اور معتبر اطلاع جیسے الفاظ کو نکال کر ٹھوس شواہد کا معیار شامل کیا گیا۔

ترمیمی بل کے مطابق بغیر ٹھوس شواہد کسی کو حراست میں نہیں لیا جا سکے گا اور 3 ماہ سے زائد حفاظتی حراست کے لیے معقول جواز ضروری ہوگا۔ مسلح افواج اور سول آرمڈ فورسز کو ملک کی سلامتی، دفاع، امن و امان، اغوا برائے تاوان اور ٹارگٹ کلنگ جیسے جرائم میں ملوث افراد کو 3 ماہ تک حراست میں رکھنے کا اختیار دیا گیا ہے۔ ضرورت پڑنے پر حراست کی مدت آئندہ بھی بڑھائی جا سکتی ہے۔

ترمیمی بل کے تحت زیر حراست افراد کے خلاف تحقیقات مشترکہ تحقیقاتی ٹیم کرے گی اور یہ قانون تین سال کے لیے نافذ العمل ہوگا۔

وفاقی وزیر قانون اعظم نذیر تارڑ نے کہا کہ حکومت کو ملک میں امن و امان کے قیام کے لیے قانون سازی کا مکمل اختیار حاصل ہے، اور گرفتار افراد کو 24 گھنٹے کے اندر عدالت میں پیش کرنا لازمی ہے۔ آئین کے تحت 90 روز تک کسی کو نظر بند رکھنے کا بھی اختیار دیا گیا ہے۔

Related Posts