قومی ڈیٹا بیس اینڈ رجسٹریشن اتھارٹی (نادرا) کے ترجمان سید شباہت علی نے کہا ہے کہ فنگر پرنٹس کے مسائل سے دوچار معمر شہریوں کے لیے جلد فیس ریکگنیشن (چہرے سے شناخت کا نظام) متعارف کرایا جا رہا ہے، تاکہ ان افراد کو شناختی دستاویزات کے حصول میں درپیش مشکلات کا مؤثر حل فراہم کیا جا سکے۔
ترجمان نے بتایا کہ نادرا معمر شہریوں کو درپیش مشکلات کو سمجھتا ہے اور اسی لیے جدید ٹیکنالوجی کو بروئے کار لایا جا رہا ہے تاکہ عمر رسیدہ افراد کو سہولت دی جا سکے، خاص طور پر اُن افراد کو جن کے فنگر پرنٹس وقت کے ساتھ مٹ چکے ہوتے ہیں۔
انہوں نے کہا کہ بچوں کی پیدائش کے فوراً بعد ان کا اندراج کروانا والدین کی ذمہ داری ہے، کیونکہ شناخت سے محرومی بچے کے بنیادی حقوق کی خلاف ورزی ہے۔ انہوں نے مزید بتایا کہ 18 سال سے کم عمر بچوں کے لیے “جووینائل کارڈ” جاری کیا جاتا ہے، جس کی میعاد 18 سال کی عمر تک ہوتی ہے۔
ترجمان نے وضاحت کی کہ اگر والدین میں سے کسی ایک کا شناختی کارڈ دستیاب نہ ہو، تو بھی بچے کے شناختی کارڈ کے لیے والدین میں سے کم از کم ایک کا شناختی کارڈ ہونا لازمی ہے۔ یہ بنیادی شرط ہے جس کے بغیر عمل مکمل نہیں ہو سکتا۔
کراچی میں نادرا کی سہولیات سے متعلق گفتگو کرتے ہوئے انہوں نے بتایا کہ شہر بھر میں نادرا کے 359 کاؤنٹرز کام کر رہے ہیں اور ان کی تعداد میں مزید اضافہ کیا جائے گا تاکہ عوام کو بہتر اور تیز رفتار خدمات فراہم کی جا سکیں۔
عائلی معاملات پر بات کرتے ہوئے ترجمان نے واضح کیا کہ طلاق کی صورت میں یونین کونسل سے باقاعدہ سرٹیفکیٹ کا حصول ضروری ہوتا ہے، جو قانونی طور پر دستاویزی ثبوت کے طور پر کام آتا ہے














