اگر زندگی میں فالج جیسے جان لیوا مرض سے خود کو محفوظ رکھنا چاہتے ہیں تو ایک مخصوص اور صحت بخش غذا کو معمول کا حصہ بنانا مفید ثابت ہو سکتا ہے۔
جرنل نیورولوجی اوپن ایسسز میں شائع ایک تحقیق میں بتایا گیا ہے کہ Mediterranean diet خواتین میں فالج کی تمام اقسام کے خطرے کو نمایاں حد تک کم کر دیتی ہے۔
یہ غذا اسپین، یونان، اٹلی اور فرانس جیسے ممالک میں عام طور پر استعمال کی جاتی ہے، جس میں پھل، سبزیاں، اجناس، گری دار میوے، مچھلی اور زیتون کا تیل شامل ہوتا ہے، جبکہ سرخ گوشت کا استعمال نہایت کم کیا جاتا ہے۔
تحقیق کے مطابق یہ غذا نہ صرف فالج کی سب سے عام قسم بلکہ برین ہیمرج کے خطرے کو بھی کم کرتی ہے۔ محققین کا کہنا ہے کہ یہ ایک اہم دریافت ہے کیونکہ فالج کی اس قسم پر غذائی اثرات سے متعلق تحقیقی شواہد محدود ہیں۔
محققین کے مطابق نتائج اس بات کی مزید تصدیق کرتے ہیں کہ صحت کے لیے مفید غذا فالج سے بچاؤ میں کلیدی کردار ادا کرتی ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ یہ غذا دماغی صحت کے لیے بھی فائدہ مند ثابت ہو سکتی ہے۔
اس تحقیق میں ایک لاکھ 5 ہزار سے زائد خواتین کو شامل کیا گیا، جن کی اوسط عمر 53 سال تھی اور ان میں فالج کی کوئی سابقہ تاریخ موجود نہیں تھی۔ تحقیق کے آغاز پر شرکاء سے سوالناموں کے ذریعے ان کی غذائی عادات کی تفصیلات حاصل کی گئیں۔
بعد ازاں ان خواتین کی صحت کا 21 سال تک جائزہ لیا گیا، جس دوران 4083 خواتین فالج کا شکار ہوئیں۔
تمام ممکنہ عوامل کو مدنظر رکھنے کے بعد محققین نے دریافت کیا کہ Mediterranean diet اختیار کرنے سے فالج کی مختلف اقسام سے متاثر ہونے کا خطرہ 16 سے 25 فیصد تک کم ہو جاتا ہے۔
محققین کے مطابق فالج دنیا بھر میں اموات اور معذوری کی بڑی وجوہات میں شامل ہے، تاہم صحت بخش غذاؤں کے ذریعے اس جان لیوا مرض کے خطرے کو نمایاں حد تک کم کیا جا سکتا ہے۔
انہوں نے مزید کہا کہ نتائج کی حتمی تصدیق کے لیے مزید تحقیق کی ضرورت ہے تاکہ یہ واضح ہو سکے کہ Mediterranean diet کس طرح فالج سے تحفظ فراہم کرتی ہے۔














