سندھ کی ضلعی عدالتوں کے ججز اور عدالتی عملے کو سوشل میڈیا کے استعمال سے متعلق سخت ہدایات جاری کر دی گئی ہیں۔ یہ مراسلہ رکن انسپکشن ٹیم کی جانب سے جاری کیا گیا، جس میں عدالتی افسران و اہلکاروں کو نظم و ضبط، وقار اور رازداری کا مکمل خیال رکھنے کی ہدایت کی گئی ہے۔
مراسلے میں کہا گیا ہے کہ چیف جسٹس سندھ ہائیکورٹ نے ضوابط کی مبینہ خلاف ورزیوں پر سنجیدہ تحفظات کا اظہار کیا ہے، جس کے بعد یہ فیصلہ کیا گیا کہ سوشل میڈیا کے استعمال پر واضح حدود کا تعین کیا جائے۔ ہدایت کی گئی ہے کہ کوئی بھی عدالتی افسر یا اہلکار سوشل میڈیا پر ایسی کوئی سرگرمی انجام نہ دے جو عدلیہ کی ساکھ کو نقصان پہنچانے کا باعث بنے یا ادارے کے وقار کے منافی ہو۔
مراسلے کے مطابق عدالتی کارروائیوں یا عدالتی دستاویزات کو سوشل میڈیا پر شیئر کرنا ممنوع ہے، اور بغیر اجازت خفیہ معلومات عام کرنا “سندھ سول سرونٹس رولز” کی صریح خلاف ورزی تصور کیا جائے گا۔ اسی طرح زیر التوا یا پہلے سے نمٹائے گئے مقدمات اور عدالتی پالیسیوں سے متعلق کسی بھی قسم کے تبصروں یا پوسٹس سے سختی سے منع کیا گیا ہے۔
رکن انسپکشن ٹیم کی جانب سے یہ بھی واضح کیا گیا ہے کہ جوڈیشل افسران و اہلکار کسی بھی سیاسی، فرقہ وارانہ یا متنازع مواد کو نہ تو سوشل میڈیا پر شیئر کریں، نہ لائک یا کمنٹس کے ذریعے اس کی توثیق کریں۔ ایسے کسی بھی اقدام کو توہین عدالت یا ادارے کی شہرت کو نقصان پہنچانے کے مترادف سمجھا جائے گا، اور متعلقہ افسر کے خلاف انضباطی کارروائی عمل میں لائی جائے گی۔
مراسلے میں عدالتی عملے کو اپنے سرکاری عہدے کو ذاتی تشہیر یا کسی بھی قسم کے کاروباری مفاد کے لیے استعمال کرنے سے بھی منع کیا گیا ہے۔ مزید یہ کہ سوشل میڈیا پر نئے افراد سے روابط قائم کرتے وقت بھی احتیاط برتنے کی ہدایت کی گئی ہے تاکہ مفادات کے ٹکراؤ سے بچا جا سکے۔
آخر میں ضلعی ججز کو ہدایت کی گئی ہے کہ وہ اس بات کو یقینی بنائیں کہ تمام جوڈیشل افسران اور عملہ جاری کردہ ایس او پیز پر مکمل عملدرآمد کریں اور سوشل میڈیا کے استعمال میں عدلیہ کے وقار، رازداری اور غیرجانبداری کو ہر صورت مقدم رکھیں۔














