سندھ ہائیکورٹ نے سانحہ گل پلازہ کی تحقیقات کے لیے جوڈیشل کمیشن تشکیل دے دیا ہے۔
کراچی کے ایم اے جناح روڈ پر واقع معروف شاپنگ سینٹر گل پلازہ میں 17 جنوری 2026 کو لگنے والی ہولناک آگ کے واقعے کی جوڈیشل انکوائری کے لیے سندھ حکومت نے 29 جنوری کو چیف جسٹس سندھ ہائیکورٹ کو خط ارسال کیا تھا، جس پر عدالتِ عالیہ نے باضابطہ جواب دے دیا ہے۔
سندھ ہائیکورٹ نے سندھ ٹربیونلز آف انکوائری آرڈیننس 1969 اور سندھ حکومت کی جانب سے جمع کروائے گئے ٹرمز آف ریفرنس کی بنیاد پر جسٹس آغا فیصل پر مشتمل سنگل ممبر جوڈیشل کمیشن تشکیل دے دیا ہے۔ یہ کمیشن گل پلازہ میں آتشزدگی کے واقعے، اس کی وجوہات اور ذمہ داریوں کا تفصیلی جائزہ لے گا۔
جوڈیشل کمیشن کی مدت کار اور دیگر تفصیلات سندھ حکومت کی جانب سے الگ سے نوٹیفائی کی جائیں گی۔
سندھ ہائیکورٹ کے رجسٹرار آفس کی جانب سے جاری کردہ خط میں ہدایت کی گئی ہے کہ واقعے سے متعلق تمام ریکارڈ اور دستاویزات جسٹس آغا فیصل کے روبرو پیش کی جائیں۔ اس ضمن میں محکمہ داخلہ سندھ کو بھی آگاہ کر دیا گیا ہے۔
واضح رہے کہ گل پلازہ میں لگنے والی آگ کے نتیجے میں 70 سے زائد افراد جان کی بازی ہار گئے تھے۔














