Welcome To Qalm-e-Sindh

سانحہ گل پلازہ: تعمیراتی کام اور ٹریفک مینجمنٹ نہ ہونے سے پانی کی قلت پر قابو نہ پایا جا سکا، چیف فائر آفیسر

کراچی: چیف فائر آفیسر نے گل پلازہ میں لگنے والی آتشزدگی سے متعلق تفصیلات جاری کرتے ہوئے کہا ہے کہ تعمیراتی کام اور مؤثر ٹریفک مینجمنٹ نہ ہونے کے باعث آگ بجھانے کے دوران پانی کی شدید قلت کا سامنا رہا جسے بروقت دور نہیں کیا جا سکا۔

سالِ نو کے آغاز پر کراچی ایک بڑے سانحے سے دوچار ہوا، جب شہر کے معروف شاپنگ سینٹر گل پلازہ میں اچانک بھڑکنے والی آگ نے قیمتی انسانی جانیں نگل لیں اور کروڑوں روپے مالیت کا سامان خاکستر ہو گیا۔

چیف فائر آفیسر کے مطابق ہفتے کی شب 10 بج کر 14 منٹ پر گل پلازہ میں واقع آرٹیفیشل گملوں اور پھولوں کی ایک دکان میں آگ بھڑکی، جبکہ 10 بج کر 38 منٹ پر ریسکیو 1122 کو آگ لگنے کی اطلاع دی گئی۔

انہوں نے بتایا کہ 10 بج کر 57 منٹ پر ریسکیو 1122 کے دو فائر ٹینڈر موقع پر پہنچے۔ گل پلازہ میں مجموعی طور پر 14 سے 16 داخلی اور خارجی راستے موجود ہیں، تاہم راستے انتہائی تنگ ہونے کے باعث فائر فائٹنگ آپریشن میں شدید مشکلات پیش آئیں۔

چیف فائر آفیسر کے مطابق عمارت کے تمام داخلی اور خارجی راستے دھوئیں سے بھر گئے تھے۔ آگ بجھانے کے دوران ابتدائی دو سے تین گھنٹوں میں پانی کی قلت پیدا ہو گئی، جبکہ پانی کی فراہمی کے لیے آنے والے ٹینکر گرومندر کے قریب جاری تعمیراتی کام کے باعث پھنس گئے۔

انہوں نے کہا کہ ہجوم اور مؤثر ٹریفک مینجمنٹ نہ ہونے کے باعث بھی پانی کی کمی فوری طور پر دور نہ کی جا سکی، تاہم آگ پر قابو پانے کے لیے پہلے ہی روز فوم کا استعمال شروع کر دیا گیا تھا۔

چیف فائر آفیسر نے مزید بتایا کہ عمارت کے تین مختلف حصے منہدم ہو چکے ہیں اور عمارت کو مخدوش قرار دیا جا چکا ہے۔ اس وقت بھی 12 فائر ٹینڈر، 6 واٹر باؤزر اور 2 اسنارکل موقع پر موجود ہیں۔ گل پلازہ کی آگ پر 90 فیصد قابو پا لیا گیا ہے جبکہ عمارت کے اندر موجود سامان کے تقریباً 10 فیصد حصے میں آگ تاحال موجود ہے۔

انہوں نے بتایا کہ رات گئے تک گراؤنڈ فلور کی تمام دکانوں میں لگی آگ مکمل طور پر بجھا دی گئی تھی۔

Related Posts