پشاور: پاکستان تحریک انصاف کے رہنما اسد قیصر نے دعویٰ کیا ہے کہ 2022 کے تباہ کن سیلاب کے بعد حکومت کو عالمی مالیاتی اداروں خصوصاً ورلڈ بینک کی جانب سے اربوں ڈالر کی امداد ملی، لیکن بدقسمتی سے یہ امداد مستحقین تک نہ پہنچ سکی۔ اپنے بیان میں اسد قیصر کا کہنا تھا کہ ورلڈ بینک نے حکومت کو موسمی ریڈارز کے قیام کے لیے بھی فنڈنگ فراہم کی، تاکہ مستقبل میں قدرتی آفات سے نمٹنے کے لیے بروقت وارننگ سسٹم فعال کیا جا سکے۔ تاہم، تین سال گزرنے کے باوجود اس منصوبے کا ٹینڈر پراسس بھی مکمل نہیں ہو سکا۔
ان کا کہنا تھا کہ حکومتی نااہلی اور غفلت کے باعث عوام کو بروقت معلومات نہ مل سکیں، جس کے نتیجے میں حالیہ سیلابی صورتحال میں بڑے پیمانے پر جانی و مالی نقصان ہوا۔ اسد قیصر نے زور دے کر کہا کہ 2022 کے سیلاب کے بعد جو خطیر غیر ملکی امداد ملی تھی، اس کا شفاف استعمال یقینی نہیں بنایا گیا، اور وہ وسائل ان متاثرہ افراد تک نہیں پہنچ سکے جنہیں اس کی سب سے زیادہ ضرورت تھی۔














