Welcome To Qalm-e-Sindh

دریائے ستلج کے سیلابی ریلے سے بہاولپور میں 7 بند ٹوٹ گئے، ہزاروں ایکڑ پر فصلیں تباہ

لاہور اور جنوبی پنجاب کے مختلف علاقوں میں دریاؤں میں آنے والے سیلابی ریلوں سے صورتحال سنگین ہو گئی ہے۔ بہاولپور میں دریائے ستلج کے شدید دباؤ کے باعث سات بند ٹوٹ گئے، جس سے بستی یوسف، احمد والہ کھوہ اور تحصیل صدر سمیت کئی علاقے زیر آب آ گئے۔ ہزاروں ایکڑ پر کھڑی فصلیں پانی میں ڈوب گئیں۔

دوسری جانب، دریائے چناب میں سیلابی صورتحال کے باعث جھنگ کے علاقے جنگران میں ریسکیو آپریشن جاری ہے، جہاں متاثرہ افراد اور مویشیوں کو کشتیوں کے ذریعے محفوظ مقامات پر منتقل کیا جا رہا ہے۔

سیلاب کی مجموعی صورتحال پر بات کرتے ہوئے متعلقہ اداروں نے بتایا ہے کہ صوبے میں اب تک سیلاب سے ہلاکتوں کی تعداد 33 ہو چکی ہے، جبکہ 20 لاکھ سے زائد افراد متاثر ہوئے ہیں۔ متاثرہ اضلاع میں 2200 دیہات زیرِ آب آ چکے ہیں اور ساڑھے سات لاکھ افراد کا انخلا کیا گیا ہے۔ متاثرین کے جانوروں کو محفوظ مقام تک پہنچانے کے لیے بیڑوں کا بھی انتظام کیا گیا ہے۔

مزید بتایا گیا ہے کہ حالیہ بارشوں نے اربن فلڈنگ کی صورتحال پیدا کر دی ہے، جس کے باعث مختلف علاقوں میں شہری زندگی بھی متاثر ہو رہی ہے۔

جنوبی پنجاب کی جانب بڑھتے سیلابی ریلے کے حوالے سے کمشنر ملتان کا کہنا ہے کہ اس وقت دریائے چناب میں 40 ہزار کیوسک کا ریلا داخل ہو چکا ہے اور آنے والے دنوں میں اس کا حجم 8 لاکھ کیوسک تک پہنچنے کا خدشہ ہے۔ ہیڈ تریموں سے 7 لاکھ کیوسک اور راوی سے 90 ہزار کیوسک پانی ملتان میں داخل ہوگا۔ ہیڈ محمد والا کی گنجائش 10 لاکھ کیوسک ہے، تاہم اگر ضرورت پیش آئی تو وہاں شگاف ڈالنے کا امکان بھی موجود ہے۔

ڈپٹی کمشنر مظفرگڑھ کے مطابق دریائے چناب کا ریلا 2 سے 3 ستمبر کے دوران مظفرگڑھ کی حدود میں داخل ہوگا، جس کے لیے تمام تر تیاریاں مکمل کر لی گئی ہیں۔

فیصل آباد کے قریب دریائے راوی میں بھی پانی کی سطح بلند ہو چکی ہے جس کے باعث شدید سیلابی صورتحال کا سامنا ہے۔ اس علاقے میں سیکڑوں ایکڑ زمین متاثر ہوئی ہے اور 1500 سے زائد افراد کو ریلیف کیمپوں میں منتقل کیا گیا ہے۔ فیصل آباد کے علاقے ماڑی پتن سے 2 لاکھ 15 ہزار کیوسک کا ریلا گزر رہا ہے۔

دریائے چناب کا سیلابی ریلا سیالکوٹ، وزیرآباد اور چنیوٹ میں تباہی مچانے کے بعد جھنگ میں داخل ہو چکا ہے، جہاں 220 دیہات متاثر ہوئے، سیکڑوں ایکڑ فصلیں تباہ ہوئیں اور کئی رابطہ سڑکیں پانی میں بہہ گئیں۔

ادھر سندھ میں بھی صورتحال تشویشناک ہے۔ دریائے سندھ پر کوٹری بیراج میں پانی کی آمد اور اخراج میں مسلسل اضافہ ہو رہا ہے۔ حالیہ اعداد و شمار کے مطابق کوٹری بیراج میں پانی کی آمد 2 لاکھ 73 ہزار 844 کیوسک اور اخراج 2 لاکھ 44 ہزار 739 کیوسک ریکارڈ کیا گیا ہے۔

وزیر اعلیٰ سندھ مراد علی شاہ نے کہا ہے کہ اگر پانی کا بہاؤ 9 لاکھ یا 10 لاکھ کیوسک تک بھی پہنچتا ہے تو کچے کا علاقہ متاثر ہو گا۔ ان کے مطابق ڈسٹرکٹ انتظامیہ کو ہدایت دی گئی ہے کہ نیشنل ڈیزاسٹر مینجمنٹ اتھارٹی (این ڈی ایم اے) کے ساتھ مل کر تیاری کی جائے۔ انہوں نے بتایا کہ آرمی سے رابطہ برقرار ہے اور ٹیمیں الرٹ پر ہیں۔ این ڈی ایم اے کی 192 کشتیاں متاثرہ افراد کے انخلا کے لیے دستیاب ہیں۔

وزیر اعلیٰ سندھ کے مطابق انسانی جانوں اور مویشیوں کو بچانے کا واحد مؤثر طریقہ بروقت نقل مکانی ہے۔ انہوں نے عوام سے اپیل کی کہ وہ خطرے کے وقت انتظامیہ سے تعاون کریں تاکہ نقصانات سے بچا جا سکے۔

Related Posts