Welcome To Qalm-e-Sindh

خیبر پختونخوا پولیس کو بلٹ پروف گاڑیوں کی فراہمی کی اندرونی کہانی سامنے آگئی

وفاقی حکومت کی جانب سے خیبر پختونخوا پولیس کو بلٹ پروف گاڑیاں فراہم کرنے کی اندرونی تفصیلات منظرِ عام پر آ گئی ہیں۔ ذرائع کے مطابق یہ فیصلہ ایک اعلیٰ سطح اجلاس میں کیا گیا، جس کی صدارت وزیر داخلہ نے کی۔ اجلاس میں پولیس اور ایف سی حکام نے صوبے میں افسران کو درپیش سیکیورٹی خدشات سے آگاہ کیا اور بلٹ پروف گاڑیوں کی فراہمی کا مطالبہ کیا۔

ذرائع کا کہنا ہے کہ فیڈرل کانسٹیبلری نے جنوبی اضلاع میں تعینات اہلکاروں کے لیے 10 بلٹ پروف گاڑیوں کی ضرورت ظاہر کی تھی، جس پر وفاق کی جانب سے فیڈرل کانسٹیبلری کو 2 جبکہ خیبر پختونخوا پولیس کو 3 بلٹ پروف گاڑیاں فراہم کی گئیں۔ مزید یہ کہ 10 ماہ قبل بھی فیڈرل کانسٹیبلری کو 3 بلٹ پروف گاڑیاں دی جا چکی تھیں۔

وفاقی حکام کا مؤقف ہے کہ یہ اقدام دہشتگردی کے خلاف لڑنے والے اداروں کو تحفظ فراہم کرنے کے لیے اٹھایا گیا ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ آپریشنز والے علاقوں میں تعینات افسران اور اہلکاروں کی سلامتی ہر صورت یقینی بنائی جائے گی۔

ادھر خیبر پختونخوا حکومت کی جانب سے ان گاڑیوں پر تحفظات کا اظہار کرتے ہوئے انہیں پرانی اور ناقص قرار دیا گیا ہے۔ صوبائی حکام کا کہنا ہے کہ یہ اقدام خیبر پختونخوا پولیس کی تضحیک کے مترادف ہے، اور ان گاڑیوں کو فوری طور پر وفاق کو واپس کیا جائے گا۔

دوسری جانب بلوچستان حکومت نے ان گاڑیوں کو حاصل کرنے میں دلچسپی ظاہر کی ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ بلوچستان بھی دہشتگردی سے بری طرح متاثر ہے، لہٰذا اگر خیبر پختونخوا حکومت یہ گاڑیاں واپس کرتی ہے تو انہیں بلوچستان حکومت کو فراہم کیا جائے۔

وفاقی سطح پر یہ فیصلہ کیا گیا ہے کہ اگر کے پی حکومت بلٹ پروف گاڑیاں واپس کرتی ہے تو وہ بلوچستان کو منتقل کر دی جائیں گی، تاکہ وہاں تعینات اہلکاروں کو بھی مناسب سیکیورٹی فراہم کی جا سکے۔

Related Posts