Welcome To Qalm-e-Sindh

خودمختاری کے خلاف کسی بھی اقدام کا منہ توڑ جواب دیا جائے گا: قطر کااسرائیلی حملے پرسخت ردعمل

قطر نے اپنی سرزمین پر اسرائیلی فضائی حملے کی شدید الفاظ میں مذمت کرتے ہوئے اسے بین الاقوامی قوانین کی کھلی خلاف ورزی قرار دیا ہے اور واضح کیا ہے کہ وہ اپنی سلامتی اور خودمختاری کو نشانہ بنانے والے کسی بھی اقدام کو ہرگز قبول نہیں کرے گا۔

ذرائع کے مطابق، اسرائیلی فضائیہ نے قطر کے دارالحکومت دوحا میں ایک رہائشی علاقے کو نشانہ بنایا، جس میں فلسطینی مزاحمتی تنظیم حماس کی اعلیٰ قیادت کو ہدف بنانے کا دعویٰ کیا گیا۔ اسرائیلی فوج کے مطابق، حملے کا مقصد حماس کے سینیئر رہنما خلیل الحیہ اور دیگر قائدین تھے۔

حماس ذرائع کا کہنا ہے کہ حملے کے وقت تنظیم کے رہنما ایک اجلاس میں شریک تھے جہاں وہ غزہ میں جنگ بندی سے متعلق ایک بین الاقوامی تجویز پر غور کر رہے تھے، تاہم تنظیم کے مطابق تمام رہنما حملے میں محفوظ رہے۔

اس واقعے کے بعد قطر کی وزارت خارجہ نے فوری ردعمل دیتے ہوئے کہا ہے کہ یہ حملہ نہ صرف قطر کی خودمختاری کی سنگین خلاف ورزی ہے بلکہ قطر کے شہریوں اور یہاں مقیم افراد کی سلامتی کے لیے بھی شدید خطرہ ہے۔

قطری وزارت خارجہ کے ترجمان ڈاکٹر ماجد بن محمد الانصاری کے مطابق، سکیورٹی فورسز، سول ڈیفنس اور دیگر متعلقہ اداروں نے فوری طور پر حفاظتی اقدامات اٹھاتے ہوئے متاثرہ علاقوں کو محفوظ بنانے کا عمل شروع کر دیا ہے۔

بیان میں کہا گیا ہے کہ قطر اسرائیل کے غیر ذمہ دارانہ رویے اور خطے کے امن میں جاری خلل کو کسی صورت برداشت نہیں کرے گا۔ ترجمان کے مطابق، اعلیٰ سطح پر تحقیقات جاری ہیں اور جیسے ہی مزید تفصیلات دستیاب ہوں گی، عوام کے ساتھ شیئر کی جائیں گی۔

ادھر ایک بین الاقوامی سفارتی ذریعے کا کہنا ہے کہ اسرائیل نے مبینہ طور پر اس حملے سے قبل امریکا کو پیشگی اطلاع دی تھی اور دعویٰ کیا گیا ہے کہ امریکا نے اس کارروائی میں مدد بھی فراہم کی۔

Related Posts