نائب وزیرِ اعظم اور وزیرِ خارجہ اسحاق ڈار نے کہا ہے کہ حکومت 27ویں آئینی ترمیم لارہی ہے اور اسے آئینی تقاضوں کے مطابق پیش کیا جائے گا۔ ان کے مطابق پیپلز پارٹی اور حکومت ایک نکتے پر متفق ہوچکے ہیں جبکہ دیگر اتحادی جماعتوں کو بھی اعتماد میں لیا جا رہا ہے۔
سینیٹ کے اجلاس میں خطاب کرتے ہوئے اسحاق ڈار نے کہا کہ 27ویں ترمیم پر پارلیمانی کمیٹی میں تفصیلی غور ہوگا، جس میں قومی اسمبلی کی قانون و انصاف کمیٹی کو بھی شامل کیا جائے گا۔ انہوں نے یقین دہانی کرائی کہ ترمیم کو جلد بازی میں منظور نہیں کرایا جائے گا، بلکہ تمام اسٹیک ہولڈرز سے مشاورت کے بعد حتمی مسودہ ایوان کے سامنے پیش کیا جائے گا۔
ان کا کہنا تھا کہ “ہم اپنے سب سے بڑے اتحادی کے ساتھ بیٹھے ہیں، اب ایم کیو ایم، اے این پی اور بی اے پی سمیت دیگر جماعتوں کو بھی اعتماد میں لیں گے۔”
اسحاق ڈار نے کہا کہ بلاول بھٹو کا بیان ان کا حق ہے، اور انہوں نے جن نکات پر بات کی، وہ بے بنیاد نہیں تھے — ان امور پر بات چیت ہوچکی ہے اور پیش رفت مثبت سمت میں ہے۔
نائب وزیرِ اعظم نے وضاحت کی کہ یہ آئینی ترمیم “کہیں سے پیراشوٹ نہیں ہو رہی” بلکہ یہ حکومت کی اپنی تجویز ہے، جس پر شراکت داروں، ماہرینِ قانون اور متعلقہ فورمز سے مشاورت کی جا رہی ہے۔
ذرائع کے مطابق، مجوزہ 27ویں آئینی ترمیم میں آرٹیکل 243 میں تبدیلی شامل ہے، جس کے تحت آرمی چیف کو دیے گئے فیلڈ مارشل کے عہدے کو آئین میں تسلیم کرنے کی تجویز زیرِ غور ہے۔
ترمیم کے دیگر نکات میں آئینی عدالتوں کے قیام، ضلعی سطح پر ایگزیکٹو کی مجسٹریٹ اختیارات کی منتقلی، اور پورے ملک میں یکساں نصابِ تعلیم کے نفاذ سے متعلق تجاویز بھی شامل ہیں۔
ذرائع کا کہنا ہے کہ 27ویں آئینی ترمیم کا بل آئندہ ہفتے پارلیمنٹ میں پیش کیے جانے کا امکان ہے۔














