کراچی: میئر کراچی مرتضیٰ وہاب کا کہنا ہے کہ حالیہ شدید بارشوں میں اگر کوئی بھی بڑا دعوے دار آ جائے، تب بھی پانی فوری طور پر نکالنا ممکن نہ ہوتا، کیونکہ شہر میں بارش معمول سے کہیں زیادہ ہوئی۔
انہوں نے کہا کہ شہر میں 300 ملی میٹر سے زائد بارش ریکارڈ کی گئی، جب کہ شہر کے نالوں میں صرف 40 ملی میٹر پانی کی گنجائش ہے۔ پہلے ہی روز 12 گھنٹوں کے دوران 235 ملی میٹر بارش ہو چکی تھی، جس سے شہر کے مختلف علاقوں میں پانی جمع ہونا فطری تھا۔
مرتضیٰ وہاب نے کہا کہ نالوں کی صفائی نہ ہونے کے حوالے سے تنقید کی گئی، لیکن اگر نالے واقعی بند ہوتے تو شہر بھر میں اب تک پانی کھڑا ہوتا۔ انہوں نے بتایا کہ کراچی میں تقریباً 600 نالے موجود ہیں، جن میں سے 46 نالے میونسپل کارپوریشن کے زیر انتظام جبکہ 524 نالے ٹاؤنز کے تحت ہیں۔
انہوں نے بتایا کہ نالوں کی صفائی کا عمل 20 جون سے شروع ہوا جو 15 ستمبر تک جاری رہے گا۔ اب تک 30 لاکھ 24 ہزار کیوبک فٹ گند، چوکنگ پوائنٹس سے نکال کر لینڈ فل سائٹس پر منتقل کیا جا چکا ہے۔
میئر کراچی کا کہنا تھا کہ اگر اورنگی نالہ اور نہر خیام کو صاف نہ کیا جاتا تو ڈسٹرکٹ ویسٹ، گزری اور پنجاب چورنگی جیسے علاقے صاف نہ ہوتے۔ ان کا مؤقف تھا کہ صفائی کے اقدامات کی بدولت ہی پانی کی نکاسی ممکن ہو سکی۔
مرتضیٰ وہاب نے اپوزیشن پر بھی تنقید کرتے ہوئے کہا کہ جماعت اسلامی کو صرف شکایت کرنا آتی ہے۔ انہوں نے کہا کہ ٹاؤنز کے قیام کے بعد صرف جماعت اسلامی کے 9 ٹاؤنز کو 27 ارب روپے دیے گئے، اس کے باوجود وہ دعویٰ کرتے ہیں کہ انہیں فنڈز نہیں ملے۔
ان کا کہنا تھا کہ سندھ حکومت ہر ماہ ان ٹاؤنز کو ایک ارب روپے دیتی ہے، مگر پھر بھی اختیار نہ ہونے کا واویلا کیا جاتا ہے۔ انہوں نے واضح کیا کہ 60 کروڑ روپے کے موجود ہونے کے باوجود بعض علاقوں میں نالے صاف نہ کیے گئے، جس پر تنقید کی جا رہی ہے۔
میئر کراچی نے اپیل کی کہ باتوں سے نکل کر سب مل کر کام کریں، اور کہا کہ سیاسی مخالفت کی بنیاد پر شہر کو نیچا دکھانا درست نہیں۔ انہوں نے کہا کہ صرف تنقید نہیں، عملی اقدامات اور اجتماعی کوششوں سے ہی شہر کو بہتر بنایا جا سکتا ہے۔














