Welcome To Qalm-e-Sindh

بھارت نے دریائے ستلج میں پانی چھوڑ دیا، پاکپتن کے 23 گاؤں مکمل طور پر زیرِ آب،

دریائے ستلج میں بھارت کی جانب سے اضافی پانی چھوڑنے کے باعث دریا کے بہاؤ میں تیزی سے اضافہ ہو گیا ہے، جس سے پاکپتن کے متعدد علاقوں میں شدید سیلاب کی صورتحال پیدا ہو گئی ہے۔

پاکستانی وزارت آبی وسائل کو بھارتی ہائی کمیشن کے ذریعے پانی چھوڑے جانے کی پیشگی اطلاع دی گئی، جس کے بعد محکمہ موسمیات اور متعلقہ اداروں نے فلڈ الرٹ جاری کر دیا۔

پنجاب کے ڈیزاسٹر مینجمنٹ اتھارٹی (پی ڈی ایم اے) نے بتایا کہ ستلج کے مختلف مقامات، بشمول ہریکے ڈاؤن اسٹریم اور فیروزپور ڈاؤن اسٹریم، میں فی الحال اونچے درجے کا سیلاب موجود ہے۔ ہیڈ سلیمانکی کے مقام پر بھی پانی کی سطح خطرناک حد تک پہنچ چکی ہے۔

پی ڈی ایم اے کی جانب سے شہریوں کی جان و مال کے تحفظ کے لیے فوری اقدامات کرنے کی ہدایت کی گئی ہے۔

دریائے ستلج کے سیلاب سے ضلع پاکپتن کے 23 گاؤں مکمل طور پر زیر آب آ چکے ہیں جبکہ 53 گاؤں جزوی طور پر متاثر ہوئے ہیں۔ سیلاب زدہ علاقوں سے تقریباً 24,974 افراد کو محفوظ مقامات پر منتقل کیا جا چکا ہے۔

اب تک کل 64,663 افراد سیلاب سے متاثر ہوئے ہیں اور 66,913 ایکڑ زرعی رقبہ پانی میں ڈوب چکا ہے۔ مزید برآں، 4,106 مویشی بھی محفوظ مقامات پر منتقل کیے گئے ہیں تاکہ ان کی جان و مال کا تحفظ یقینی بنایا جا سکے۔

سیلاب کی وجہ سے فصلوں کو شدید نقصان پہنچا ہے اور پانی کے کھڑے رہنے کے باعث مختلف بیماریوں کے پھوٹ پڑنے کا خدشہ بھی ظاہر کیا جا رہا ہے۔

Related Posts