بھارتی عسکری قیادت کی جانب سے ایک بار پھر پاکستان مخالف جارحانہ بیانات سامنے آئے ہیں، جن میں بے بنیاد الزامات، اشتعال انگیزی اور جنگی زبان کا استعمال کیا گیا ہے۔ ان بیانات کو ماہرین نے خطے کے امن کے لیے خطرہ قرار دیا ہے۔
بھارتی فوج کے سربراہ جنرل اوپندر دویدی نے فوجی جوانوں سے خطاب میں کہا کہ اگر پاکستان دنیا کے نقشے پر قائم رہنا چاہتا ہے تو اسے مبینہ دہشتگردی کی حمایت ترک کرنا ہوگی۔ ان کا یہ بیان سخت ردعمل کا باعث بنا ہے جسے غیر ذمہ دارانہ اور اشتعال انگیز قرار دیا جا رہا ہے۔
جنرل دویدی نے مزید کہا کہ بھارتی فوج نے حالیہ آپریشن “سندور” کے دوران جس تحمل کا مظاہرہ کیا، آئندہ اس کی ضرورت محسوس نہیں کی جائے گی، اور فوج کو کسی بھی ممکنہ کارروائی کے لیے تیار رہنے کی ہدایت بھی جاری کی گئی ہے۔
ادھر بھارتی فضائیہ کے سربراہ ایئر چیف مارشل امرپریت سنگھ نے ایک پریس کانفرنس میں دعویٰ کیا کہ مئی میں ہونے والی کشیدگی کے دوران بھارت نے پاکستان کے 5 لڑاکا طیارے تباہ کیے، جن میں مبینہ طور پر ایف-16 اور جے ایف-17 تھنڈر طیارے شامل تھے۔ تاہم، انہوں نے ان دعووں کے کوئی ثبوت یا شواہد پیش نہیں کیے۔
جب صحافیوں نے ان سے پاکستانی دعوے — جن کے مطابق بھارت کے طیارے مار گرائے گئے تھے — پر سوال کیا تو بھارتی ایئر چیف نے جواب دینے سے گریز کیا۔
پاکستان کے وزیر دفاع نے ماضی میں بھارتی دعوؤں پر ردعمل دیتے ہوئے کہا تھا کہ اگر بھارت میں واقعی کوئی سچائی ہے تو دونوں ممالک کو چاہیے کہ اپنے لڑاکا طیاروں کے موجودہ ذخیرے کی آزادانہ بین الاقوامی تصدیق کرائیں۔
یاد رہے کہ 6 اور 7 مئی کی درمیانی شب بھارت کی جانب سے پاکستان میں متعدد فضائی حملے کیے گئے تھے، جن کے نتیجے میں شہری جانی نقصان ہوا۔ پاکستان نے ان حملوں کے جواب میں فوری ردعمل دیا اور 7 بھارتی طیارے تباہ کرنے کا دعویٰ کیا، جن میں جدید رافیل طیارے بھی شامل تھے۔
بعد ازاں بھارت نے ڈرون اور میزائل حملے شروع کیے، جن کے جواب میں پاکستان نے آپریشن “بنیان مرصوص” کے تحت بھارتی فضائی اڈوں اور دیگر فوجی اہداف کو نشانہ بنایا۔
مبصرین کا کہنا ہے کہ بھارتی عسکری قیادت کے اس طرح کے بیانات خطے کے امن کو سبوتاژ کرنے کے مترادف ہیں، اور دونوں ممالک کو ذمہ داری کا مظاہرہ کرتے ہوئے کشیدگی کم کرنے کی جانب بڑھنا چاہیے۔














