برطانیہ، کینیڈا اور آسٹریلیا نے فلسطین کو باضابطہ طور پر ایک آزاد ریاست کے طور پر تسلیم کرنے کا اعلان کردیا ہے، جسے عالمی سطح پر دو ریاستی حل کے لیے ایک اہم پیش رفت قرار دیا جا رہا ہے۔
برطانوی وزیرِ اعظم کی جانب سے جاری بیان میں کہا گیا ہے کہ فلسطینیوں اور اسرائیلیوں کے درمیان پائیدار امن اور دو ریاستی حل کی امید کو زندہ رکھنے کے لیے فلسطین کو ریاست تسلیم کیا جا رہا ہے۔ ان کا مزید کہنا تھا کہ حماس کا فلسطین کی حکمرانی یا سکیورٹی کے ڈھانچے میں کوئی کردار نہیں ہونا چاہیے۔
کینیڈین وزیر اعظم نے بھی فلسطین کی بطور ریاست تسلیم کی توثیق کرتے ہوئے کہا ہے کہ اسرائیلی حکومت ایک منظم حکمت عملی کے تحت فلسطینی ریاست کے قیام کو روکنے کی کوشش کر رہی ہے۔ ان کے مطابق فلسطینی اتھارٹی نے یقین دہانی کروائی ہے کہ وہ حکمرانی کے نظام میں اصلاحات کرے گی، جن میں 2026 تک عام انتخابات کا انعقاد، ریاست کو غیر مسلح بنانا، اور حماس کے کردار کو ختم کرنا شامل ہے۔
آسٹریلوی حکومت نے بھی فلسطینی ریاست کو تسلیم کرنے کا اعلان کیا ہے۔ حکومتی بیان میں کہا گیا ہے کہ یہ اقدام بین الاقوامی برادری کے دو ریاستی حل کے مقصد کا حصہ ہے۔ آسٹریلیا نے بھی اس مؤقف کو دہرایا کہ حماس کا فلسطین میں کوئی کردار نہیں ہونا چاہیے۔
حکومت کا مزید کہنا تھا کہ فلسطینی اتھارٹی کی جانب سے کی گئی یقین دہانیوں پر عمل درآمد کے بعد فلسطین کے ساتھ سفارتی تعلقات قائم کرنے اور سفارتخانے کھولنے جیسے اقدامات پر غور کیا جائے گا۔














