ملک بھر میں گزشتہ 24 گھنٹوں کے دوران بارشوں اور سیلاب سے ہونے والے جانی و مالی نقصان کی تفصیلات جاری کر دی گئی ہیں۔ جاری کردہ اعداد و شمار کے مطابق مختلف حادثات میں 41 افراد جاں بحق اور 11 زخمی ہوئے۔ جاں بحق ہونے والوں میں 29 مرد، 9 خواتین اور 3 بچے شامل ہیں۔
رپورٹ کے مطابق خیبر پختونخوا میں سب سے زیادہ 19 اموات رپورٹ ہوئیں جبکہ ایک شخص زخمی ہوا۔ گلگت بلتستان میں 11 افراد جان کی بازی ہار گئے اور 5 زخمی ہوئے۔ سندھ میں بھی شدید بارشوں کے باعث 11 افراد جاں بحق اور 5 زخمی ہوئے۔ ملک کے مختلف حصوں میں بارشوں سے انفراسٹرکچر اور مقامی آبادیوں کو شدید نقصان پہنچا ہے۔ مون سون سیزن کے دوران مجموعی طور پر اب تک 748 افراد جاں بحق اور 978 زخمی ہو چکے ہیں۔ جاں بحق ہونے والوں میں 459 مرد، 111 خواتین اور 178 بچے شامل ہیں جبکہ زخمیوں میں 475 مرد، 243 خواتین اور 260 بچے شامل ہیں۔ مجموعی طور پر اب تک پنجاب میں 165، خیبر پختونخوا میں 446، سندھ میں 40، گلگت بلتستان میں 45، آزاد کشمیر میں 22 اور اسلام آباد میں 8 افراد جان کی بازی ہار چکے ہیں۔
ملک بھر میں بارشوں اور سیلاب سے 990 مکانات گر چکے ہیں جبکہ 3 ہزار 898 مویشی بھی ہلاک ہو چکے ہیں۔ ان نقصانات سے نہ صرف انسانی جانوں کا زیاں ہوا بلکہ زرعی معیشت اور روزمرہ زندگی بھی بری طرح متاثر ہوئی ہے۔ خیبر پختونخوا میں ہونے والے نقصانات کے بارے میں پرونشل ڈیزاسٹر منیجمنٹ اتھارٹی نے بھی علیحدہ رپورٹ جاری کی ہے جس کے مطابق صوبے میں بارشوں اور سیلاب کے باعث مجموعی طور پر 377 افراد جاں بحق اور 182 زخمی ہوئے۔ مختلف علاقوں میں 1377 گھروں کو نقصان پہنچا جن میں سے 1022 کو جزوی اور 355 کو مکمل نقصان ہوا۔
سب سے زیادہ جانی نقصان بونیر میں ہوا جہاں 228 افراد جاں بحق ہوئے۔ اس کے علاوہ صوابی، باجوڑ، مانسہرہ، شانگلہ، دیر لوئر اور بٹگرام میں بھی کلاؤڈ برسٹ، شدید بارش اور سیلابی ریلوں کے باعث بڑے پیمانے پر تباہی دیکھی گئی۔
محکمہ موسمیات نے آئندہ دنوں میں مزید بارشوں کی پیشگوئی کی ہے جس کے باعث متعلقہ ادارے الرٹ ہیں اور شہریوں کو احتیاطی تدابیر اختیار کرنے کی ہدایت جاری کر دی گئی ہے۔














