اے این پی کے مطابق، صوبوں کے حقوق اور وفاقیت کو مضبوط بنانے کے لیے اہم آئینی و معاشی اصلاحات ضروری ہیں۔ پارٹی نے تجویز پیش کی کہ آبی بجلی پیدا کرنے والے صوبوں پر وفاقی ٹیکس ختم کیا جائے اور ان صوبوں میں گھریلو صارفین کے لیے بجلی کا ریٹ 10 روپے فی یونٹ مقرر کیا جائے۔
تمباکو کی کاشت سے متعلق تجاویز میں کہا گیا ہے کہ تمباکو کاشتکاروں پر تمام ٹیکس ختم کیے جائیں اور کچے تمباکو پر عائد ٹیکس مکمل طور پر صوبوں کو منتقل کیا جائے۔
بلدیاتی نظام کے حوالے سے اے این پی نے مطالبہ کیا کہ مستقل اور آئینی بلدیاتی حکومتوں کا قیام یقینی بنایا جائے، بلدیاتی انتخابات ہر چار سال بعد باقاعدگی سے منعقد کیے جائیں اور انتظامیہ کی بلدیاتی امور میں مداخلت کو روکنے کے لیے موثر اقدامات کیے جائیں۔
پارٹی نے یہ بھی تجویز دی کہ صوبے کا موجودہ نام “خیبرپختونخوا” بدل کر “پختونخوا” کر دیا جائے اور آئینی و سرکاری دستاویزات میں یہی نام استعمال کیا جائے۔ اے این پی کے مطابق یہ تجاویز وفاقیت، صوبائی خودمختاری اور معاشی انصاف کو مضبوط بنانے کے لیے پیش کی گئی ہیں۔














