Welcome To Qalm-e-Sindh

ایران میں مظاہرے جاری، صدر نے سکیورٹی فورسز کو مظاہرین کے خلاف کارروائی سے روک دیا

تہران: ایران کے صدر مسعود پزشکیان نے ملک میں جاری مظاہروں کے دوران سکیورٹی فورسز کو شہریوں کے خلاف کسی بھی کارروائی سے روکنے کا حکم دے دیا ہے۔

بدھ کو صدر پزشکیان نے ہدایت کی کہ سکیورٹی فورسز پُرامن مظاہرین اور مسلح شرپسندوں کے درمیان واضح فرق کریں اور صرف شرپسند عناصر کے خلاف کارروائی کی جائے۔

کابینہ اجلاس کے بعد جاری ویڈیو میں نائب صدر محمد جعفر نے بتایا کہ صدر نے مظاہرین کے خلاف کسی قسم کے کریک ڈاؤن سے منع کیا ہے۔ انہوں نے مزید کہا کہ جو افراد اسلحہ، چاقو یا چھری لے کر پولیس اسٹیشنز اور فوجی تنصیبات پر حملہ کرتے ہیں، وہ شرپسند ہیں اور ان کے خلاف سخت اقدامات کیے جائیں گے۔

واضح رہے کہ ایران میں مہنگائی کے خلاف احتجاجی مظاہرے جاری ہیں اور جھڑپوں میں اب تک 35 افراد ہلاک ہو چکے ہیں۔ تہران میں پولیس نے مظاہرین کو منتشر کرنے کے لیے آنسو گیس کی شیلنگ بھی کی۔

ایرانی آرمی چیف جنرل امیر حاتمی نے خبردار کیا ہے کہ ایران، امریکا اور اسرائیل کی جانب سے حکومت مخالف مظاہروں کی حمایت کے معاملے پر خاموش نہیں رہے گا۔

ایرانی قومی سلامتی کونسل نے بھی ملک کے خلاف جاری سازشوں پر سخت انتباہ جاری کرتے ہوئے کہا کہ اگر مخاصمت آمیز اقدامات جاری رہے تو دشمن کو منہ توڑ جواب دیا جائے گا۔ ایران کی سلامتی، خودمختاری اور سرزمین کی سالمیت پر کوئی سمجھوتہ نہیں کیا جائے گا۔

Related Posts