اسلام آباد کی مسجد میں خودکش حملہ کرنے والے بمبار کی شناخت کر لی گئی ہے۔ حکومتی ذرائع کے مطابق خودکش حملہ آور نے افغانستان سے دہشت گرد کارروائیوں کی تربیت حاصل کی تھی اور وہ متعدد مرتبہ افغانستان کا سفر کر چکا تھا۔
حکومتی ذرائع کا کہنا ہے کہ افغانستان میں موجود مختلف دہشت گرد گروہ طالبان رجیم کی سرپرستی میں خطے کی سلامتی کے لیے سنگین خطرہ بنے ہوئے ہیں۔ ذرائع کے مطابق پاکستان میں ہونے والی ہر دہشت گردانہ کارروائی کے پسِ پشت افغانستان اور بھارت کا گٹھ جوڑ کارفرما ہے۔
حکومتی ذرائع نے مزید کہا کہ پوری قوم ایسی بزدلانہ اور مذموم کارروائیوں کے خلاف سیسہ پلائی دیوار بنی ہوئی ہے اور دہشت گرد اپنے مذموم مقاصد میں کبھی کامیاب نہیں ہوں گے۔
پولیس ذرائع کے مطابق خودکش حملہ آور کی شناخت نادرا ریکارڈ کی مدد سے کی گئی، حملہ آور کا تعلق پشاور سے تھا اور اس کی عمر 32 سال بتائی جا رہی ہے۔
واضح رہے کہ اسلام آباد کے علاقے ترلائی میں مسجد و امام بارگاہ خدیجتہ الکبریٰ میں نمازِ جمعہ کے دوران خودکش دھماکے کے نتیجے میں 31 افراد شہید جبکہ متعدد افراد زخمی ہو گئے تھے۔
پولیس کے مطابق خودکش حملہ آور کو مسجد میں داخل ہونے سے روکا گیا، جس پر اس نے خود کو دھماکے سے اڑا لیا۔ عینی شاہدین کا کہنا ہے کہ دھماکے سے قبل فائرنگ کی آوازیں بھی سنائی دیں۔
واقعے کے بعد پولیس، فوج اور رینجرز کے دستوں نے علاقے کو گھیرے میں لے لیا جبکہ تمام زخمیوں کو پمز اور پولی کلینک اسپتال منتقل کر دیا گیا۔ وفاقی دارالحکومت کے تمام بڑے اسپتالوں میں ہنگامی حالت نافذ کر دی گئی ہے۔














