ڈیفنس فیز 6 کے ایک فلیٹ سے مردہ حالت میں ملنے والی ماڈل و اداکارہ حمیرا اصغر کی حتمی میڈیکو لیگل رپورٹ سامنے آ گئی ہے، جس نے ان کی پراسرار موت پر مزید شکوک و شبہات کو جنم دے دیا ہے۔
رپورٹ کے مطابق، اداکارہ کے کپڑوں پر خون کے واضح نشانات پائے گئے ہیں۔ ٹی شرٹ اور ٹراؤزر پر نہ صرف خون لگا تھا بلکہ ڈی این اے کے شواہد بھی حاصل ہوئے ہیں۔ تاہم، سب سے اہم انکشاف یہ ہے کہ مکمل لاش دستیاب نہیں تھی— صرف ہڈیاں باقی بچی تھیں، جس کے باعث موت کی حتمی وجہ کا تعین ممکن نہیں ہو سکا۔
پولیس ذرائع کے مطابق، بلڈ اور ڈی این اے کا کوئی مرکزی ڈیٹا بینک موجود نہیں ہے جس کے باعث رپورٹ میں موجود شواہد کو کسی سے میچ نہیں کیا جا سکا۔ مزید برآں، اداکارہ کا ایک موبائل فون تاحال غائب ہے، جس کا ڈیٹا تفتیش میں اہم کردار ادا کر سکتا تھا۔
تحقیقات کے دوران پولیس کو فلیٹ سے بلوں اور کرائے کی پرچیاں بھی ملی ہیں، جو موت سے قبل کے حالات پر روشنی ڈالنے میں مددگار ثابت ہو سکتی ہیں۔
یاد رہے کہ اداکارہ کی لاش 8 جولائی کو اس وقت ملی تھی جب فلیٹ کے مالک نے کرایے کی عدم ادائیگی پر عدالت سے رجوع کیا۔ عدالتی بیلف جب فلیٹ پر پہنچا اور دروازہ نہ کھلنے پر اسے توڑا گیا، تو اندر سے انتہائی حد تک سڑی ہوئی لاش برآمد ہوئی تھی۔
ابتدائی پوسٹ مارٹم رپورٹ کے مطابق، لاش گلنے سڑنے کے آخری مرحلے میں تھی، اور ماہرین کے مطابق اداکارہ کی موت کو تقریباً 8 سے 10 ماہ گزر چکے تھے۔ جسم کے نچلے حصے سے گوشت مکمل طور پر غائب ہو چکا تھا۔
ذرائع کے مطابق، اداکارہ حمیرا اصغر کا تعلق لاہور سے تھا تاہم وہ گزشتہ کئی برسوں سے کراچی کے اسی فلیٹ میں تنہا مقیم تھیں۔ انہوں نے 2018 میں یہ فلیٹ کرائے پر لیا تھا، جبکہ 2024 سے انہوں نے کرایہ ادا کرنا بند کر دیا تھا جس پر مالک نے قانونی چارہ جوئی کی تھی۔
پولیس واقعے کی مزید تحقیقات جاری رکھے ہوئے ہے، اور تاحال کسی بھی قسم کی مجرمانہ کارروائی یا خودکشی کے امکان کو مسترد نہیں کیا گیا۔














