Welcome To Qalm-e-Sindh

“آپ مجھے نوابشاہ اور گڑھی خدا بخش دکھائیں، میں آپ کو پورا پنجاب دکھاتی ہوں: عظمیٰ بخاری کا پیپلز پارٹی کو چیلنج”

پنجاب کی وزیر اطلاعات عظمیٰ بخاری نے حالیہ گفتگو میں پیپلز پارٹی کو شدید تنقید کا نشانہ بناتے ہوئے کہا ہے کہ اتحادی ہونے کے باوجود اگر تلخ بات کی جائے گی تو ویسا ہی جواب دیا جائے گا۔ ان کا کہنا تھا کہ انہوں نے شرجیل میمن کا مناظرے کا چیلنج قبول کر لیا ہے اور اب وہ صرف اتنا چاہتی ہیں کہ پیپلز پارٹی اپنے گزشتہ 17 سالوں کے صرف 17 منصوبے بتا دے۔

عظمیٰ بخاری نے کہا کہ پنجاب نے ہمیشہ بڑے بھائی کا کردار ادا کیا ہے۔ قدرتی آفات میں ہمیشہ دیگر صوبوں کے شانہ بشانہ کھڑا ہوا، لیکن جب پنجاب کو مشکل وقت کا سامنا ہوا تو بعض حلقوں نے سیاست چمکانے کو ترجیح دی۔ حالیہ سیلابی صورتحال پر بات کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ اگر پنجاب حکومت پیشگی تیار نہ ہوتی تو نقصان کہیں زیادہ ہوتا۔ ملتان اور مظفرگڑھ سمیت کئی علاقوں میں سیلاب نے مشکلات پیدا کیں، تاہم 25 اضلاع میں رپورٹ ہونے والے واقعات کے باوجود صورتحال قابو میں رہی۔

انہوں نے بتایا کہ 47 لاکھ افراد سیلاب سے متاثر ہوئے اور 400 دیہات کا سروے مکمل ہو چکا ہے، جبکہ 17 اکتوبر سے متاثرین میں مالی امداد کے چیک تقسیم کیے جائیں گے۔ مزید کہا کہ سول ڈیفنس ملازمین کی تنخواہوں میں 15 ہزار روپے اضافہ کیا گیا ہے، اور وزیراعلیٰ پنجاب نے تمام غیر ضروری اخراجات ختم کرنے کی ہدایت دی ہے۔

عظمیٰ بخاری نے کہا کہ بعض افراد نے پریس کانفرنسز کے ذریعے بے بنیاد الزامات لگائے لیکن سوال یہ ہے کہ انہوں نے خود سیلاب متاثرین کے لیے کیا کیا؟ انہوں نے کہا کہ پنجاب کا مقدمہ لڑنا ان کی ذمہ داری ہے اور وہ یہ بھرپور طریقے سے لڑیں گی۔

پیپلز پارٹی پر براہ راست تنقید کرتے ہوئے ان کا کہنا تھا کہ “آپ کا حال آدھا تیتر، آدھا بٹیر جیسا ہو چکا ہے۔ کراچی اور لاہور کا فرق کوئی راکٹ سائنس نہیں۔ سب کے سامنے ہے۔ آپ نے سیاست ہمیشہ پنجاب کے کندھے پر چڑھ کر کی ہے، لیکن آپ کے پاس سندھ کی نمائندگی کے لیے کچھ نہیں۔ آئیے، میں آپ کو بہاولپور، ملتان، لودھراں، رحیم یار خان اور ڈی جی خان کی ترقی دکھاتی ہوں۔ بدلے میں آپ مجھے کشمور، نواب شاہ اور گڑھی خدا بخش لے جائیے، تاکہ سب جان سکیں کہ آپ نے کیا کارنامے انجام دیے ہیں۔”

اختتام پر عظمیٰ بخاری نے ایک بار پھر مناظرے کی دعوت دہراتے ہوئے کہا: “آپ لاہور آئیں، میں آپ کو خود لاہور کی سیر کرواتی ہوں۔ مگر شرط یہی ہے کہ 17 سال کے صرف 17 منصوبے سامنے لائیں۔”

Related Posts